سال 2026 کا پہلا سورج گرہن کب اور کہاں دیکھا جائے گا؟
دنیا بھر میں سال 2026 کا پہلا سورج گرہن ہوگا، جسے عام طور پر رنگ آف فائر یعنی آگ کا حلقہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس منفرد فلکیاتی منظر نے ماہرین فلکیات اور آسمان سے دلچسپی رکھنے والے افراد کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
اسی موقع پرگوگل نے ایک خصوصی اینیمیشن فیچر متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد لوگوں کو اس قدرتی عمل کو آسان اور دلچسپ انداز میں سمجھانا ہے۔ گوگل اس سے پہلے بھی اپنے ڈوڈلز اور انٹرایکٹو فیچرز کے ذریعے اہم عالمی واقعات کو نمایاں کرتا رہا ہے۔
اس اینیمیشن کو دیکھنے کے لیے صارفین کو اپنے موبائل یا کمپیوٹر میں گوگل کروم یا کسی بھی براؤزر پر جا کر سرچ بار میں ’سولر ایکلپس‘ یا سورج گرہن لکھنا ہوگا۔
سرچ کرنے پراسکرین پر ایک گرافک نظر آئے گا جس میں چاند کو سورج کے سامنے سے گزرتے ہوئے دکھایا جائے گا۔ اس میں سورج کی بیرونی تہہ کو بھی نمایاں کیا گیا ہے، جسے کورونا کہا جاتا ہے۔
یہ فلکیاتی منظر نہ صرف سائنسی لحاظ سے اہم ہوتا ہے بلکہ عام لوگوں کے لیے بھی ایک دلچسپ اور یادگار تجربہ بن جاتا ہے۔ گوگل کا یہ نیا فیچر اس قدرتی مظہر کو مزید آسان اور قابل فہم بنانے کی ایک کوشش ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس کے بارے میں جان سکیں۔
ماہرین کے مطابق سورج گرہن اس وقت ہوتا ہے جب سورج، چاند اور زمین ایک سیدھ میں آ جاتے ہیں۔
اس دوران چاند سورج کو مکمل یا جزوی طور پر ڈھانپ لیتا ہے۔ امریکی خلائی ادارے ”ناسا“ کے مطابق ”اینولر سورج گرہن“ اس وقت ہوتا ہے جب چاند زمین سے نسبتاً زیادہ فاصلے پر ہوتا ہے۔ اس وجہ سے چاند سائز میں چھوٹا دکھائی دیتا ہے اور سورج کو مکمل طور پر نہیں ڈھانپ پاتا۔ اس صورتحال میں سورج کے گرد ایک روشن دائرہ نظر آتا ہے جو آگ کے حلقے جیسا لگتا ہے۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق یہ گرہن پاکستان میں نظر نہیں آئے گا اور مکمل طور پر صرف انٹارکٹیکا میں دکھائی دے گا۔ پاکستانی وقت کے مطابق گرہن دوپہر 2 بج کر 56 منٹ پر شروع ہو گا، شام 5 بج کر 12 منٹ پر اپنے عروج پر پہنچے گا اور رات 7 بج کر 28 منٹ پر ختم ہو گا۔
اس گرہن کے حوالے سے ایک اہم سائنسی حقیقت بھی سامنے آئی ہے۔ برٹش آسٹرونومیکل ایسوسی ایشن کے جرنل میں شائع تحقیق کے مطابق کسی ایک مقام پر مکمل سورج گرہن اوسطاً تقریباً 373 سال بعد جبکہ اینولر سورج گرہن اوسطاً تقریباً 226 سال بعد دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اینولر گرہن مکمل گرہن کے مقابلے میں زیادہ بار ہوتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ سورج گرہن کو براہ راست دیکھنا آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ گرہن کے دوران آنکھوں کی حفاظت کے لیے خصوصی عینک کا استعمال ضروری ہے۔
















