ایپسٹین فائلز میں 19 سال پہلے لاپتہ ہونے والی لڑکی کا نام، کیس میں نیا موڑ
پرتگال سے 2007 میں لاپتہ ہونے والی تین سالہ برطانوی بچی میڈلین میک کین سے متعلق ایک بار پھر عالمی سطح پر بحث شروع ہو گئی ہے، جب امریکا میں جاری کی گئی نئی عدالتی دستاویزات میں اس کا نام سامنے آیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بدنام زمانہ مقدمات سے جڑی نئی دستاویزات ایپسٹین فائلز نے ایک بار پھر دنیا بھر کی توجہ مبذول کرلی ہے۔
مبینہ طور پر ایک گواہ نے امریکی حکام کو اطلاع دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایک ایسی خاتون کو دیکھا ہے جو گسلین میکسویل سے مشابہ تھی اور اس کے ساتھ موجود ایک کمسن بچی حیران کن حد تک لاپتہ برطانوی بچی میڈلین میک کین جیسی دکھائی دیتی تھی۔
رپورٹ کے مطابق ایک شخص جس کا نام خفیہ رکھا گیا ہے نے سال 2020 میں فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن سے رابطہ کیا اور بتایا کہ سال 2009 میں یعنی بچی کی گمشدگی کے تقریباً دو سال بعد، وہ دکان سے گھر واپس آ رہا تھا کہ اس نے ایک عورت کو دیکھا جو میکسویل کے حلیے سے ملتی جلتی تھی وہ تقریباً 6سالہ بچی کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھی۔
گواہ کے مطابق عورت بچی کو جلدی آگے لے جانے کی کوشش کر رہی تھی اور گواہ کی موجودگی سے بے چین دکھائی دیتی تھی۔ گواہ نے یہ بھی بتایا کہ بچی پورے وقت اپنی دائیں آنکھ پر ہاتھ رکھے ہوئے تھی اور بار بار پیچھے مڑ کر دیکھ رہی تھی۔ کچھ دیر بعد گواہ وہاں سے ہٹ گیا اور بعد میں اس واقعے کو ایک ویب سائٹ پر رپورٹ کیا، تاہم اس وقت پولیس کو اطلاع نہیں دی گئی۔
کئی برس بعد، جب گواہ نے سوشل میڈیا پر گِسلین میکسویل سے متعلق پوسٹس دیکھیں تو اسے خیال آیا کہ اس نے جس عورت کو دیکھا تھا وہ میکسویل سے مشابہ لگتی تھی۔ اس کے بعد اس نے پولیس کو بھی اس مشاہدے کے بارے میں آگاہ کیا۔
بچی کے دائیں آنکھ پر ہاتھ رکھنے کی بات اس لیے خاص توجہ کا مرکز بنی کیونکہ میڈلین کی دائیں آنکھ میں کولوبوما نامی ایک نایاب طبی کیفیت تھی، جس کی وجہ سے آنکھ کی پتلی پر سیاہ نشان نمایاں ہوتا ہے۔ یہ علامت برسوں سے عوامی اپیلوں میں دکھائی جاتی رہی ہے۔ 2009 میں میڈلین کی عمر تقریباً چھ سال بنتی تھی، اور گواہ کے مطابق اس نے جو بچی دیکھی وہ بھی اسی عمر کی لگ رہی تھی۔
اسی سال میڈلین کے والدین کی جانب سے مقرر نجی تفتیش کاروں نے ایک ای فِٹ تصویر بھی جاری کی تھی، جس میں ایک ایسی خاتون کو دکھایا گیا تھا جو مبینہ طور پر اسپین کے شہر بارسلونا میں میڈلین کے لاپتا ہونے کے چند دن بعد دیکھی گئی تھی۔
برطانوی میڈیا کے مطابق اس خاتون کو ’وکٹوریہ بیکہم جیسی دکھنے والی‘ قرار دیا گیا تھا۔ حالیہ دنوں میں یہ تصویر دوبارہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی، تاہم اس کا بھی میکسویل سے کوئی مصدقہ تعلق ثابت نہیں ہو سکا۔
میڈلین میک کین 3 مئی 2007 کو پرتگال کے علاقے پریا دا لوز میں واقع اوشن کلب ریزورٹ سے لاپتا ہوئی تھیں، جہاں وہ اپنے والدین کے ساتھ چھٹیاں گزار رہی تھیں۔ اس رات ان کے والدین قریبی ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے گئے ہوئے تھے جبکہ میڈلین اور اس کے جڑواں بہن بھائی اپارٹمنٹ میں سو رہے تھے۔ جب ان کی والدہ واپس آئیں تو میڈلین غائب تھیں۔
واقعے کے فوراً بعد پولیس کو اطلاع دی گئی، سرچ آپریشن شروع ہوا، سرحدی اداروں اور ایئرپورٹس کو الرٹ کیا گیا اور رضاکاروں نے بھی تلاش میں حصہ لیا۔ ابتدائی طور پر پرتگالی پولیس کا خیال تھا کہ بچی کو اغوا کیا گیا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ کیس دنیا کے سب سے زیادہ زیرِ بحث گمشدہ بچوں کے مقدمات میں شامل ہو گیا، مگر تقریباً دو دہائیاں گزرنے کے باوجود میڈلین میک کین کا سراغ نہیں مل سکا۔
حکام ایک بار پھر اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ایپسٹین سے متعلق دستاویزات میں میڈلین کا ذکر صرف ایک پرانی اور غیر مصدقہ گواہی تک محدود ہے، اور اس بنیاد پر کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا ممکن نہیں۔















