بجلی پر ٹیرف بڑھانے کے لیے آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان مذاکرات شروع
پاکستان میں بجلی کے ریٹ بڑھانے اور ٹیرف میں تبدیلی کے حوالے سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور پاکستانی حکام کے درمیان اہم بات چیت شروع ہو گئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ان مذاکرات کا بنیادی مقصد بجلی کے نرخوں میں مجوزہ تبدیلیوں کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ ان فیصلوں سے عام آدمی اور ملک کی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ وہ ان ترامیم کے ذریعے معاشی استحکام اور مہنگائی کی صورتحال کو پرکھنا چاہتا ہے۔
مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف نے اس بات پر خصوصی زور دیا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں ردوبدل کا بوجھ متوسط اور غریب طبقے پر نہیں ڈالنا چاہیے۔
عالمی ادارے کا موقف ہے کہ قیمتوں میں اضافے کا طریقہ کار ایسا ہونا چاہیے جس سے کم آمدنی والے گھرانے متاثر نہ ہوں۔
دوسری جانب ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت بجلی کے نظام میں بڑی تبدیلیاں لانے کا ارادہ رکھتی ہے جس سے ایک طرف تو صنعتوں کے لیے بجلی سستی ہو سکتی ہے لیکن دوسری طرف اس سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
پاکستان میں بجلی کا شعبہ طویل عرصے سے گردشی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، جو کہ واجب الادا بلوں اور سبسڈیز کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو حکومت اور بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے مسلسل مشکلات پیدا کر رہا ہے۔
اسی وجہ سے آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت 2023 سے بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اب جبکہ سات ارب ڈالر کے بڑے قرض پروگرام کا اگلا جائزہ قریب ہے، پاکستان ان شرائط کو پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ معاشی نظام کو پٹری پر رکھا جا سکے اور گردشی قرضوں کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔














