غلافِ کعبہ کی مبینہ بے حرمتی، حرمین شریفین سے وضاحت آگئی
سوشل میڈیا پر حال ہی میں ایک تصویر بہت وائرل ہوئی ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ غلافِ کعبہ کو زمین پر بچھایا گیا ہے۔ اس تصویر نے مسلمانوں میں شدید جذبات کو جنم دیا، کیونکہ غلافِ کعبہ جسے ”کسوہ“ بھی کہا جاتا ہے، ہمارے ایمان اور تقدس سے جڑا ہوا ہے۔
انسائیڈ دی حرمین کے مطابق اس وائرل تصویر کی حقیقت معلوم کرنے کے لیے حرم شریف ست وابستہ افراد اور ماہرین سے گفتگو کی گئی۔ ماہرین نے اس تصویر کا بغور جائزہ لینے کے بعد مختلف پہلوؤں کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تصویر اصلی کسوہ کی نہیں ہے۔
ماہرین کے مطابق تصویر میں دکھائے گئے کپڑے کی لمبائی اور چوڑائی اصلی کسوہ کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی ہے۔
اصل کسوہ کے بڑے پینلز کو عام طور پر سات سے آٹھ افراد کے ساتھ حرکت دینا ممکن ہوتا ہے جبکہ وائرل تصویر میں کپڑے کی لمبائی اور چوڑائی انتہائی کم ہے جسے تین یا چار افراد حرکت دے سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تصویر میں نظر آنے والے کپڑے کا وزن اور ساخت بھی اصلی غلافِ کعبہ یا کسوہ سے مختلف نظر آتی ہے۔
اصل کسوہ بھاری اور مضبوط ہوتا ہے، جس کی وجہ سے زمین پر رکھے جانے پر اس میں سلوٹیں نہیں پڑسکتیں، لیکن تصویر سے ظاہر ہورہا ہے کہ کہ یہ کوئی عام کپڑا ہے جو بھاری بھر کم نہیں ہے۔
ماہرین کے مطابق اصلی کسوہ کی موٹائی اور کڑھائی اسے ایک خاص قسم کی ساخت اور شکل دیتی ہے جو اس تصویر میں موجود نہیں ہے۔

تصویر میں کسوہ کے ڈیزائن اور بارڈر بھی اصلی کسوہ سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اصلی کسوہ میں سیاہ رنگ کے فریم اور نقش واضح ہوتے ہیں جبکہ تصویر میں یہ فرق بہت کم یا غیر واضح ہے۔ کپڑے کے کناروں کی ساخت بھی اصلی کسوہ کے مطابق نہیں ہے۔
ماہرین نے کسوہ کے مختلف نمونوں، کناروں اور دیگر خصوصیات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی ہے کہ وائرل تصویر میں دکھایا گیا کپڑا اصلی کسوہ نہیں ہیں اور اس کے کسوہ ہونے کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔














