بنگلہ دیش میں انتخابات کی تیاریاں مکمل، لاکھوں کی تعداد میں فوجی اہلکار تعینات
بنگلادیش میں پندرہ سال کے طویل انتظار کے بعد حقیقی انتخابات کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور ملک بھر میں انتخابی مہم کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ بارہ فروری کو ہونے والے ان عام انتخابات کے لیے سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے ملک بھر میں فوج تعینات کر دی گئی ہے۔ حکومت نے سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے تین روز تک موٹر سائیکل چلانے پر بھی پابندی لگا دی ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال قابو میں رہے۔
ان انتخابات کی سب سے خاص بات انتخابی مہم کے دوران نظر آنے والے شدید بھارت مخالف جذبات ہیں۔ سڑکوں اور گلیوں میں دلی نہیں بلکہ ڈھاکہ کے نعرے گونجتے رہے اور خاص طور پر نئی نسل یعنی جین زی ووٹرز میں بھارت مخالف رنگ نمایاں طور پر نظر آیا۔
ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ اور نوجوانوں کا کہنا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے عوام کے ساتھ سیاسی بنیادوں پر امتیازی سلوک کیا، اسی لیے وہ اب ملک میں بڑی تبدیلی کے خواہاں ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا بشمول بی بی سی نے بھی بنگلادیشی نوجوانوں کے ان بدلتے ہوئے سیاسی تیوروں اور بھارت مخالف جذبات کا اعتراف کیا ہے۔
سیاسی میدان میں اس بار مقابلہ انتہائی دلچسپ اور کڑا ہونے کی توقع ہے۔ میدان میں کل 51 رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کے 1700 سے زائد امیدوار 300 نشستوں کے لیے اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔
حالیہ جائزوں اور سروے کے مطابق بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کی قیادت میں قائم اتحاد اور جماعت اسلامی کے زیر قیادت 11 جماعتوں کے اتحاد کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔
سروے بتاتے ہیں کہ بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کے اتحاد کو 44.1 فیصد جبکہ جماعت اسلامی کے اتحاد کو تقریباً 43.9 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقابلہ انتہائی سخت ہوگا۔
واضح رہے کہ اگست 2024 میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد یہ پہلے عام انتخابات ہیں۔ اس بار عوامی لیگ کے الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی عائد ہے، جس کی وجہ سے انتخابی منظرنامہ مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔
پُرامن پولنگ کے لیے ملک بھر میں نو لاکھ 70 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار فرائض انجام دیں گے۔ اب سب کی نظریں بارہ فروری پر جمی ہیں جب بنگلادیش کے عوام اپنا نیا مستقبل منتخب کریں گے۔














