ٹی 20 ورلڈ کپ بھارتی سیاسی مداخلت کے باعث تنازع کا شکار ہوا: نیویارک ٹائمز
آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ میں بھارت کے بڑھتے سیاسی اثر و رسوخ نے عالمی کرکٹ پر گہرے اثرات مرتب کر دیے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ٹی20 ورلڈ کپ میں بھارت کی سیاسی مداخلت اور آئی سی سی پر دباؤ کے باعث کئی میچز منسوخ اور پاکستان و بنگلہ دیش نے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق، بھارت کی اجارہ داری نے عالمی کرکٹ کے مستقبل اور ورلڈ کپ کے مالی فوائد کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
امریکی جریدے نیویارک ٹائمز نے اپنی حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ بھارت نے ٹی20 ورلڈ کپ کے دوران کرکٹ پر سیاسی اثر و رسوخ بڑھا کر عالمی کھیل کو یرغمال بنا لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارت کی ہٹ دھرمی کے سبب پاک بھارت میچ منسوخ ہوسکتا ہے، جبکہ بنگلہ دیش اور پاکستان نے بھی اس صورتحال کے جواب میں اپنے فیصلے لیے، جس سے ورلڈ کپ کی ساکھ متاثر ہوئی۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق پاکستان نے واضح موقف اختیار کیا کہ کھیلوں میں سیاست کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے اور بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا اعلان کر کے عالمی کرکٹ کو ہڑتال کی شکل میں خبردار کیا۔
بنگلہ دیش نے بھی پاکستان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے سے آئی سی سی کو مالی نقصان ہوگا، کیونکہ پاک بھارت میچ سے 250 ملین ڈالر کے ریونیو کی توقع تھی۔
امریکی جریدے نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بھارت آئی سی سی کے مجموعی منافع کا تقریباً 40 فیصد حصہ وصول کرتا ہے اور آئی سی سی کے چیئرمین جے شاہ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیٹے ہیں، جنہیں باپ بیٹے کے تعلقات کرکٹ میں بھارت کے بڑھتے سیاسی اثر و رسوخ کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔
مزید براں، میڈیا رائٹس ہولڈر جیو اسٹار کے شدید نقصانات کی وجہ سے آئی سی سی نے 3 ارب ڈالر کے معاہدے پر نظر ثانی کی کوشش کی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اپریل 2025 میں پہلگام حملے کے بعد فوجی تنازع نے کرکٹ کو مزید نقصان پہنچایا ہے، اور شیخ حسینہ کی حوالگی کے مطالبے نے بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں دراڑ پیدا کی۔
نیویارک ٹائمز نے بھارتی اجارہ داری کو عالمی کرکٹ کے مستقبل کے لیے خطرناک قرار دیا اور بتایا کہ آئی سی سی پر بھارتی دباؤ اور سیاسی اثر و رسوخ کھیل کے معیار اور مالیاتی استحکام دونوں کے لیے خطرہ ہے۔














