بسنت اختتام پذیر، پتنگ بازی پر دوبارہ پابندی عائد

بسنت کی رونقوں کے دوران کچھ افسوسناک حادثات بھی پیش آئے
اپ ڈیٹ 09 فروری 2026 12:13pm

لاہور میں بسنت فیسٹیول اپنے مقررہ وقت کے مطابق اختتام پذیر ہو گیا ہے جس کے بعد شہر میں پتنگ بازی پر دوبارہ مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے بسنت کی تقریبات کے لیے 6، 7 اور 8 فروری کو لاہور میں محدود اجازت دی گئی تھی تاکہ شہری ایک مقررہ دائرے میں اس روایتی تہوار کو منا سکیں۔

انتظامیہ کے مطابق بسنت فیسٹیول کے خاتمے کے ساتھ ہی پتنگ اور ڈور کی خرید و فروخت پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ لاہور میں پتنگ بازی سے متعلق کسی بھی سرگرمی کو اب قانوناً جرم قرار دیا گیا ہے، جس پر خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔

لاہور میں تین روز تک جاری رہنے والا بسنت میلہ صبح ہوتے ہی اختتام پذیر ہو گیا، جس کے بعد شہر میں معمولاتِ زندگی بحال ہو گئے ہیں اور دفاتر، اسکول اور کالج دوبارہ کھل گئے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں آنے والے طلبہ اور طالبات کے ذہنوں میں اب بھی بسنت کی رنگین یادیں تازہ ہیں، جہاں تین دن تک شہر بھر میں پتنگ بازی، موسیقی اور میلوں کا سماں رہا۔

ذرائع کے مطابق بسنت کے دوران لاہور میں مجموعی طور پر چار سے چھ ارب روپے تک کا کاروبار ہوا۔ اس میں پتنگ اور ڈور کی خریداری، کھانے پینے کی اشیا اور سفر شامل تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف پتنگ اور ڈور کی فروخت سے دو ارب روپے سے زائد کا کاروبار ہوا۔ باربی کیو پارٹیوں کے باعث پولٹری انڈسٹری کو نمایاں فائدہ پہنچا، جبکہ فاسٹ فوڈ اور مٹھائی کی فروخت سے بھی کروڑوں روپے کی آمدن ہوئی۔

دیگر شہروں سے بڑی تعداد میں شہریوں کی لاہور آمد کے باعث ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی خاصی سرگرمی دیکھی گئی۔

بسنت کے دوران مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بھانجے اور علیمہ خان کے بیٹے شاہریز خان نے بھی اپنی فیملی اور دوستوں کے ساتھ پتنگ اڑا کر بسنت منائی۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سربراہ امین الاسلام نے بھی لاہور میں بسنت کی تقریبات میں شرکت کی اور پتنگ بازی کی۔ جس پر بھارت میں اپنی ہی حکومت پر تنقید کی گئی۔

تین دن تک بچے، نوجوان، بزرگ اور خواتین سب ہی بسنت کے رنگ میں رنگے نظر آئے۔ چھتوں پر پتنگیں اور پیچے لڑائے گئے، بوکاٹا کے نعرے گونجتے رہے اور دعوتوں کا اہتمام کیا گیا۔ آخری روز پیچے لڑانے کا وقت صبح پانچ بجے تک بڑھایا گیا۔

شہر کے مختلف علاقوں میں تقریبات بھی منعقد ہوئیں۔ تاریخی دہلی گیٹ میں بسنت کی شاندار تقریب ہوئی جہاں گلوکاروں نے پرفارمنس دی۔ وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے مہمانوں کا استقبال کیا، جبکہ امریکا اور برطانیہ سے آنے والی فیملیز بھی ان خوشیوں میں شریک ہوئیں۔

لبرٹی چوک پر موسیقی پر بھنگڑے ڈالے گئے اور صوبائی وزرا بھی تقریبات میں شریک ہوئے۔ امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے بھی ڈھول بجایا اور پتنگ اڑائی۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت خصوصی ویڈیو لنک اجلاس میں بسنت کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ تین دن کے دوران لاہور میں نو لاکھ سے زائد گاڑیوں کی انٹری ریکارڈ کی گئی، جبکہ سرکاری بسوں پر تقریباً 14 لاکھ مسافروں نے سفر کیا۔

وزیراعلیٰ نے انتظامات اور سیکیورٹی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور شہریوں کے تعاون کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بسنت فیسٹیول کے اختتام کے بعد پتنگ بازی پر پابندی برقرار رہے گی اور عوام سے ایس او پیز پر عمل کرنے کی اپیل کی۔

بسنت کی خوشیوں کے ساتھ افسوسناک واقعات بھی پیش آئے۔

ہیڈ مرالہ کے قریبی گاؤں سروبے کا پندرہ سالہ عبداللہ لاہور میں بسنت مناتے ہوئے ایک اونچی چھت سے متصل بند مکان میں گر گیا۔ ریسکیو میں مشکلات پیش آئیں اور اسپتال پہنچانے کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکا۔ اس کی میت آبائی گاؤں پہنچا دی گئی۔

اسی طرح لاہور میں پتنگ بازی کے دوران نجی ٹیلی وژن سے وابستہ صحافی زین ملک بھی چھت سے گر کر شدید زخمی ہو گئے۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم سر میں گہری چوٹ کے باعث وہ جانبر نہ ہو سکے۔

زین ملک کی ناگہانی موت پر لواحقین اور صحافتی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ ان کی نماز جنازہ آج ادا کی جائے گی۔

یوں لاہور میں بسنت کا تہوار اپنے اختتام کو پہنچ گیا، جس نے جہاں شہر کو ثقافتی رونقیں اور معاشی سرگرمیاں دیں، وہیں چند قیمتی جانوں کے ضیاع نے خوشیوں کو سوگ میں بھی بدل دیا۔