رمضان 2026: کن ممالک میں روزہ سب سے طویل اور کہاں مختصر ہوگا؟

ماہرین فلکیات کے مطابق رمضان کا آغاز 19 فروری 2026 کو متوقع ہے، خلیج ٹائمز
اپ ڈیٹ 08 فروری 2026 12:21pm

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے جو ہم سے صرف ایک ہفتے کی دوری پر ہے۔ ماہِ رمضان میں روزے کے دورانیے سے متعلق تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

دنیا بھر کے ایک ارب سے زائد مسلمان رمضان کے آغاز کے منتظر ہیں، یہ مقدس مہینہ روزے، روحانی تفکر اور عبادت سے بھرپور ہوتا ہے۔

ماہرین فلکیات کے مطابق رمضان 2026 کا آغاز 19 فروری 2026 کو متوقع ہے، تاہم اگر ہلال 18 فروری کو نظر آئے تو یہ ایک دن قبل شروع ہو سکتا ہے۔ رمضان کے روزے گزشتہ سال کے مقابلے میں کچھ کم دورانیے کے ہوں گے، جس سے عبادت گزاروں کو کچھ راحت ملے گی۔

خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اسلامی ہجری کیلنڈر قمری چاند کے مدار پر مبنی ہے، جس کے مطابق ہر ماہ 29 یا 30 دن پر مشتمل ہوتا ہے، چاند کے نظر آنے کی بنیاد پر مہینے کی شروعات طے کی جاتی ہے۔ رواں برس بھی رمضان کا آغاز تقریباً 10 سے 12 دن پہلے ہونے جا رہا ہے، جس کا اثر روزے کے دورانیے اور دن کی روشنی پر پڑے گا۔

رمضان کے روزے کا آغاز صبح صادق سے غروب آفتاب تک ہوتا ہے، اور روزے کی مدت ہر مقام پر سورج کے طلوع و غروب کے وقت کے مطابق مختلف ہوتی ہے۔ جغرافیائی محل وقوع کے فرق کی وجہ سے دنیا کے مختلف ممالک میں روزے کے اوقات مختلف ہوتے ہیں۔

متوسط دنوں والے علاقوں، جیسے MENA ریجن، میں روزے کے اوقات معتدل رہتے ہیں، جبکہ شمالی ممالک میں دن لمبے ہونے کی وجہ سے روزے کے اوقات بھی زیادہ طویل ہوتے ہیں۔ جنوب میں، دن چھوٹے ہونے کے سبب روزے کے دورانیے کم رہتے ہیں۔

متوقع ہے کہ متحدہ عرب امارات میں رمضان 2026 کا پہلا روزہ تقریباً 12 گھنٹے اور 46 منٹ تک جاری رہے گا، جو گزشتہ برس کے آغاز کے دن کے مقابلے میں تقریباً 30 منٹ کم ہے۔ مہینے کے دوران روزے کے دورانیے میں کچھ اضافہ ہوگا، اور مہینے کے آخری دن تھوڑے طویل ہوں گے۔

روس، گرین لینڈ اور آئس لینڈ میں مسلمانوں کو دنیا کے طویل ترین روزے رکھنے کا تجربہ ہوگا۔ گرین لینڈ، آئس لینڈ، ناروے، سویڈن اور فن لینڈ میں روزے 16 گھنٹے سے زیادہ جاری رہ سکتے ہیں۔

کچھ بلند علاقوں، جیسے سویڈن، ناروے، گرین لینڈ اور شمالی کینیڈا میں روزہ 20 گھنٹے تک بھی رہ سکتا ہے، کیونکہ وہاں دن کی روشنی انتہائی طویل ہوتی ہے۔

جنوبی نصف کرہ یا خط استوا کے قریب ممالک میں دن مختصر اور سورج جلد غروب ہونے کی وجہ سے روزے کے اوقات 11 سے 13 گھنٹے کے درمیان رہیں گے۔

علمائے کرام کے مطابق ایسے علاقوں میں جہاں دن یا رات غیر معمولی طور پر طویل یا مختصر ہو، وہاں مکہ مکرمہ یا کسی قریبی معتدل شہر کے اوقات کے مطابق روزہ رکھنے کی اجازت ہے۔

اس کے علاوہ برازیل، جنوبی افریقا، چلی، نیوزی لینڈ، انڈونیشیا، ملیشیا اور کینیا میں اوقات 11 سے 14 گھنٹے رہیں گے۔ 

اس سال روزوں کا دورانیہ گزشتہ سال کے مقابلے میں کچھ کم ہوگا، جس سے روزہ داروں کے لیے سہولت رہے گی۔