پی ٹی آئی کا ملک گیر احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آٹھ فروری 2024 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف آج ملک گیر احتجاج کر رہی ہے۔ یہ احتجاج پارٹی کے بانی عمران خان کی کال پر کیا جا رہا ہے، جس میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام شامل ہے۔ تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اس احتجاج کا مقصد انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف آواز بلند کرنا اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ کرنا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے آٹھ فروری کو ملک بھر میں پرامن شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کی کال دی ہے، جس کی تحریک انصاف نے مکمل حمایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس دن دکانیں، کاروبار، بازار اور ٹرانسپورٹ بند رکھے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام دن بھر گھروں میں رہیں اور مغرب کی نماز قریبی مساجد میں باجماعت ادا کریں۔ نماز کے بعد حکومت کے خاتمے اور عمران خان، بشریٰ بی بی سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے دعا کی جائے اور بعد ازاں لوگ موبائل کی لائٹ یا مشعل کے ساتھ اپنے علاقوں میں پرامن ریلیوں میں شریک ہو کر احتجاج ریکارڈ کرائیں۔
تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ آٹھ فروری 2024 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے اس کا مینڈیٹ چوری کیا گیا۔ یہ انتخابات ایسے وقت میں ہوئے جب تحریک انصاف اپنے روایتی انتخابی نشان بلے کے بغیر میدان میں اتری۔
انتخابی نتائج کے مطابق پارٹی نے خیبر پختونخوا میں تیسری بار حکومت قائم کی اور قومی اسمبلی میں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت بن کر سامنے آئی، تاہم پارٹی قیادت مسلسل یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ انتخابات میں سنگین بے ضابطگیاں ہوئیں۔
پارٹی کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بار بار اس بات پر زور دیا گیا کہ احتجاج مکمل طور پر پرامن ہوگا، شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کے لیے کسی قسم کی زبردستی یا تشدد نہیں کیا جائے گا۔
ایک ویڈیو پیغام میں شہریوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ ہڑتال سے قبل گھریلو راشن اور ادویات کا بندوبست کر لیں اور ہنگامی صورتحال کے لیے پاور بینک، ٹارچ اور اضافی بیٹریاں ساتھ رکھیں۔
خیبر پختونخوا، جہاں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت قائم ہے، وہاں مختلف سرگرمیاں دیکھنے میں آرہی ہیں۔
صوبائی دارالحکومت پشاور میں پارٹی کی جانب سے ہشت نگری دروازہ سے چوک یادگار تک پیدل مارچ کا اعلان کیا گیا۔
بنوں میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کی کال پر پہیہ جام ہڑتال کی جا رہی ہے، جہاں تمام بڑے کاروباری مراکز بند ہیں۔ بنوں کے مختلف علاقوں سے پی ٹی آئی کارکنوں کی ریلیاں بھی نکلیں جن کی قیادت رکن قومی اسمبلی نسیم علی شاہ نے کی۔
ہنگو میں صورتحال قدرے مختلف رہی، جہاں پی ٹی آئی کارکن اپنے منتخب ایم پی اے اور ایم این اے کی عدم موجودگی پر سراپا احتجاج ہیں۔ کارکنوں کا کہنا تھا کہ احتجاج کی کال کے باوجود پارٹی کے منتخب نمائندے موقع پر نہیں آئے، جس کے باعث احتجاج مؤثر نہ ہو سکا۔
بعض کارکنوں نے مین چوک میں جمع ہو کر نعرے لگائے، جبکہ کچھ نے احتجاج سے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے گھروں کو واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ مقامی رہنماؤں کے مطابق دکانیں تو صبح سے بند تھیں، لیکن تنظیمی اور منتخب قیادت کی عدم شرکت کے باعث احتجاج مطلوبہ شکل اختیار نہ کر سکا۔
ہری پور میں تحریک انصاف کی کال پر مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام دیکھنے میں آیا۔ تمام تاجر تنظیموں اور ٹرانسپورٹ یونینز نے ہڑتال کی حمایت کی، جس کے نتیجے میں شہر کے تمام بازار اور ٹرانسپورٹ اڈے بند رہے۔
ٹرانسپورٹ بند ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ چھوٹی گاڑیوں کے کرایوں میں غیر معمولی اضافہ بھی دیکھا گیا۔
دوسری جانب وادی تیراہ سے متاثرین کی نقل مکانی کی وجہ سے پی ٹی آئی نے باڑہ میں ہڑتال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایم پی اے پی کے 71 عبدالغنی نے متاثرین کی نقل مکانی کے باعث ہڑتال مؤخر کر دی ہے اور کہا ہے کہ باڑہ بازار اور ملحقہ تجارتی مراکز کھلے ہیں، یہاں کوئی پہیہ جام ہڑتال بھی نہیں ہوگی۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ باڑہ میں وادی تیراہ متاثرین کی نقل مکانی اور رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔
خیبرپختونخوا کے ضلع اورکزئی میں تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان کی کال پر شٹرڈاؤن ہڑتال ناکام ہوگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، لوئر اورکزئی میں بازار کھلے ہیں اور تجارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ تاجروں اور دکانداروں نے مارکیٹیں اور کاروباری مراکز کھول دیے ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ کی روانی بھی بلاتعطل جاری ہے۔













