پی ٹی آئی اجلاس: 8 فروری کو ملک گیر ہڑتال اور احتجاج کا اعلان
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے جب کہ مشترکہ اعلامیے میں 8 فروری کو ملک گیر پرامن ہڑتال اور احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔
جمعرات کو پاکستان تحریکِ انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیہل آفریدی نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی، سیکیورٹی اور صوبائی صورت حال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور معصوم شہریوں کی شہادتوں پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اورتعزیت کا اظہارکیا گیا۔
شرکا نے دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد اور عزم کے اعادے پر زور دیا۔ اجلاس میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں پر شدید تشویش اظہارکیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ انہیں فوری طور پرمکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور اہلِ خانہ سے ملاقاتوں کا سلسلہ بلا تاخیر بحال کیا جائے۔
شرکا نے خیبرپختونخوا کو درپیش مالی و انتظامی مسائل کے حل کے لیے وفاق سے مؤثر تعاون پر زور دیتے ہوئے این ایف سی، این ایچ اے اور آئی پی پیز کی مد میں واجب الادا رقوم کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا تاکہ صوبے کے عوامی مسائل کا عملی حل ممکن ہو سکے۔ اجلاس میں قبائلی اضلاع کے عوام کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کی فوری بحالی اورمکمل ازالے پر بھی زور دیا گیا۔
اجلاس میں خیبر جرگہ کے فیصلوں کی توثیق کرتے ہوئے قبائلی اضلاع میں پائیدار امن کے قیام اور عوامی مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں سے فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی۔
اس کے علاوہ پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے 8 فروری کو عوامی مینڈیٹ چھیننے کے خلاف ملک گیر پرامن ہڑتال اور احتجاج ریکارڈ کرانے کا بھی اعلان کیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نمازِ مغرب کے بعد عوام مشعل بردارریلیاں نکال کراپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔
اجلاس میں سندھ اور پنجاب میں کارکنان کی گرفتاریوں اور گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوریت، آئین اور بنیادی انسانی حقوق کی نفی قراردیا گیا۔ اجلاس اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ تحریکِ انصاف عوام کے آئینی، جمہوری اور سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد ہرسطح پر جاری رکھے گی۔
عمران کی بہنوں پر جملے کسنے والوں کیلئے جگہ نہیں، بیرسٹر گوہر
قبل ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمنٹیرینز اور صوبائی اسمبلی ممبران کی اسلام آباد میں بڑی بیٹھک ہوگی، جس میں مختلف شعبوں کے پروفیسرز ملکی بہتری پر تفصیلی گفتگو کریں گے، عمران خان کی صحت سے متعلق اہم ڈسکشن ایجنڈے میں شامل ہوگی، اتحاد کی تاریخ پہلے ہی اعلان ہوچکا ہے، ہم اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آٹھ تاریخ کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل ہے، پورے پاکستان سے عوام کو احتجاج میں شامل ہونے کی درخواست کی گئی ہے، کے پی کے یا پنجاب کی تخصیص نہیں، احتجاج پورے ملک میں ہوگا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ احتجاج ہوگا توچاروں صوبوں میں ہونا چاہیے، آٹھ فروری کو احتجاج رضاکارانہ ہوگا، کسی پر زور زبردستی نہیں، آٹھ فروری کا دن جمہوریت کے لیے ایک بڑا سیاہ دن ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے مشعال یوسفزئی کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی فیملی پر تنقید پارٹی پالیسی کے خلاف ہے، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں پر تنقید کرنے اور جملے کسنے والوں کے لیے پارٹی میں کوئی جگہ نہیں، پارٹی رہنماؤں کو ضبط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
تاریخ میں پہلی بار ایک سابق وزیراعظم جیل میں ہے، تیمور جھگڑا
دوسری جانب خیبرپختونخوا ہاؤس میں پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز اور ٹکٹ ہولڈرز کا مشترکہ اجلاس ہوا۔ اس موقع پر تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ اگر حکومت قانون پرعمل کرتی تو اس صورت حال کی نوبت نہ آتی، تاریخ میں پہلی بار ایک سابق وزیراعظم جیل میں ہے اور حکومت خوفزدہ نظرآتی ہے، بیماری کے باوجود بانی پی ٹی آئی تک کسی کو رسائی نہیں دی جا رہی، آٹھ فروری کے گناہ کو دو سال ہوگئے، احتساب اب بھی ضروری ہے۔
تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ الیکشن رگنگ کرنے والوں کا احتساب ریاست کی ذمہ داری ہے، وزیراعظم کا اپوزیشن لیڈر سے ملنے کا اعلان خوش آئند ہے، سیاسی مسائل کا حل سیاسی مذاکرات سے ہی نکلے گا، امن و امان میں بہتری سیاسی حکومت کی اونرشپ سے ہی ممکن ہے، پشاور میں ایپیکس کمیٹی میں سیاسی و عسکری قیادت کی موجودگی مثبت اشارہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کل پشاور میں شہداء کو خراجِ عقیدت کی تصویرنے قومی یکجہتی کا پیغام دیا، وزیراعظم اگر بحران میں فعال کردار ادا کریں تو یہ خوش آئند ہوگا، بانی کو فیملی اور ذاتی ڈاکٹروں تک فوری رسائی دی جائے، دوغلی پالیسیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے، اسلام آباد سمیت پورے پاکستان میں احتجاج ناگزیر ہوچکا ہے، پشاور میں تاریخی احتجاج کی تیاری مکمل کی جا رہی ہے۔
ہمیں احتجاج نہیں، عمران کی صحت زیادہ عزیزہے، علی محمد خان
ادھر اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے پارلیمنٹرینز اور ٹکٹ ہولڈرز کے مشترکہ اجلاس سے قبل پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان کا کہنا تھا کہ عمران خان تک ان کے ذاتی ڈاکٹرز کی فوری رسائی ہونی چاہیے، ہمیں احتجاج نہیں، بانی پی ٹی آئی کی صحت سب سے زیادہ عزیزہے، بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کا مسئلہ تشویشناک ہے، رسک نہیں لیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ آج کی میٹنگ کا 99 فیصد فوکس بانی کی صحت پر ہے، 100 فیصد احتجاج ایک طرف، بانی پی ٹی آئی کی صحت ایک طرف ہے، بانی کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
علی محمد خان نے مزید کہا کہ آٹھ فروری کے احتجاج پر بات بعد میں پہلے بانی پی ٹی آئی کا علاج ہے، ہمیں بانی تک رسائی نہیں دی جا رہی، یہ افسوسناک ہے، شوکت خانم بنانے والا آج خود علاج سے محروم ہے، بانی پی ٹی آئی سابق وزیراعظم اور قومی ہیرو ہیں، ان کے علاج میں رکاوٹ ناقابلِ قبول ہے۔











