آٹھ فروری احتجاج پر پی ٹی آئی اجلاس: پرانی حکمت عملی کی مخالفت، جنید اکبر برہم
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پارٹی رہنماؤں کے درمیان آٹھ فروری کو ہونے والے احتجاج سے متعلق تضاد سامنے آیا ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق، اجلاس میں سب سے زیادہ توجہ صوبے میں سڑکیں بند کرنے کی حکمت عملی پر مرکوز رہی۔
تاہم، رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک نے واضح طور پر مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ فروری کو سڑکوں کی بندش سے صوبے کے عوام متاثر ہوں گے۔
شاہد خٹک کے مطابق خیبرپختونخوا کے عوام نے انہیں مینڈیٹ دیا ہے اور کسی بھی اقدام سے عوام کو مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے، یہ سب سے اہم ہے۔
ذرائع کے مطابق ایم این اے عاطف خان نے بھی شاہد خٹک کی حمایت کی اور اجلاس میں یہ بات زور پکڑ گئی کہ عوامی سہولت اور روزمرہ زندگی کو نقصان پہنچائے بغیر ہی احتجاجی حکمت عملی تیار کی جائے۔
اجلاس میں اڈیالہ جیل کے باہر اور دیگر مظاہروں میں شرکت نہ کرنے والوں کی فہرست بنانے کا بھی معاملہ زیر بحث آیا، جس پر شاہد خٹک نے سفارش کی کہ ہر رکن کی موجودگی اور تعاون کو یقینی بنایا جائے۔
صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا جنید اکبر اجلاس کے دوران سخت برہم دکھائی دیے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق انہوں نے کہا کہ پارٹی پر کام اور ورکرز کا دباؤ ہے اور ہر رکن کو اپنے موقف کو واضح کرنا ہوگا۔
جنید اکبر نے شاہد خٹک سے کہا کہ اگر واقعی کچھ کرنا ہے تو تمام اراکین اسمبلی مستعفی ہو جائیں اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے اسلام آباد لانگ مارچ کے لیے نکلیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سب کوششوں کے باوجود پارٹی کو اچھا نہیں کہا جاتا، اس لیے یکجہتی اور بھرپور کارروائی ضروری ہے۔
شاہد خٹک نے آج نیوز سے گفتگو میں کہا کہ اجلاس میں ہر کسی نے اپنی رائے کا اظہار کیا اور انہوں نے یہ واضح کیا کہ لاک ڈاؤن یا سڑکوں کی بندش سے عوام کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے اس پر زور نہیں دیا گیا۔















