پاکستان کے بائیکاٹ کے بعد آئی سی سی، بھارتی بورڈ اور براڈکاسٹرز کی نیندیں اُڑ گئیں
پندرہ فروری کو پاکستان اور بھارت کے درمیان شیڈول ٹی ٹوئنٹی ٹاکرا نہ ہونے کے اعلان کے بعد کرکٹ کی دنیا میں ہلچل مچ گئی ہے۔ حکومتِ پاکستان کے اس اعلان نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور براڈکاسٹرز کی نیندیں اڑا دی ہیں، کیونکہ اس کے نتیجے میں عالمی کرکٹ کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ذرائع کے مطابق آئی سی سی کو اس بائیکاٹ کے باعث ایک اعشاریہ تین ارب ڈالر کا نقصان ہوگا اور ادارے کا تقریباً 65 فیصد منافع بھی ہاتھ سے نکل جائے گا۔
اس دوران براڈکاسٹرز کو بھی سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا، جس کی مالیت 141 ارب روپے کے قریب بتائی جا رہی ہے۔
گیٹ منی اور اشتہارات سے ہونے والی آمدنی بھی متاثر ہوگی، جس سے لاکھوں ڈالرز کے نقصان کا امکان ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے لیے بھی صورتحال مشکل ہے۔
میچ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان دو پوائنٹس سے محروم ہوگا اور بورڈ کو تقریباً دو ارب روپے کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔
اسپانسرشپ کی مد میں بھی ایک ارب روپے سے زائد آمدنی کی توقع نہیں ہے اور آئی سی سی کی جانب سے سالانہ نو ارب روپے کی فنڈنگ میں بھی کٹوتی ممکن ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی ویورشپ بھی پاکستان کے بائیکاٹ کے باعث کمزور پڑ سکتی ہے اور عالمی کرکٹ کے تجارتی حلقوں میں شدید پریشانی پائی جا رہی ہے۔
پاکستان کے انکار نے بھارتی بورڈ اور آئی سی سی کو ایسی صورتحال میں ڈال دیا ہے جہاں وہ مالی اور مارکیٹنگ کے دونوں محاذوں پر نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ فیصلہ نہ صرف کرکٹ کے شائقین بلکہ عالمی کرکٹ کے کاروباری پہلوؤں کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا ہے، اور اب سب کی نظریں یہ دیکھنے پر مرکوز ہیں کہ آئی سی سی اور بھارتی بورڈ اس صورتحال سے کس طرح نکلیں گے۔














