کراچی لٹریچر فیسٹیول 6 فروری سے شروع ہوگا، 8 ممالک کے مندوبین کی شرکت متوقع

رواں سال فیسٹیول میں 8 ممالک سے تعلق رکھنے والے 200 سے زائد مندوبین شرکت کریں گے
شائع 31 جنوری 2026 07:33pm

کراچی لٹریچر فیسٹیول (کے ایل ایف) رواں سال 6 تا 8 فروری بیچ لگژری ہوٹل کراچی میں منعقد ہورہا ہے۔ فیسٹیول میں آٹھ ممالک کے دو سو سے زائد مندوبین شریک اور 90 سے زائد سیشنز رکھے گئے ہیں۔

پاکستان کی بڑی اور بااثر ادبی تقاریب میں شمار ہونے والے کراچی لٹریچر فیسٹیول (کے ایل ایف) کا 17 واں ایڈیشن 6 سے 8 فروری تک کراچی کے بیچ لگژری ہوٹل میں منعقد ہوگا، جہاں ملک اور بیرونِ ملک سے نامور ادیب، شاعر، دانشور اور محققین ادب اور عصری دنیا کے اہم موضوعات پر اظہارِ خیال کریں گے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان کے زیرِ اہتمام ہونے والے اس فیسٹیول کاعنوان “Literature in a Fragile World رکھا گیا ہے، جس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ کہانیاں، شاعری اور تنقیدی سوچ سماجی، سیاسی و ثقافتی عدم استحکام اور تیز رفتار تبدیلیوں کے تناظر میں انسانی جذبات کی کس طرح ترجمانی کرتی ہیں۔

فیسٹیول کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر ارشد سعید حسین نے کہا کہ تیزی سے منقسم ہوتی دنیا میں ادب اُن چند آخری جگہوں میں سے ایک ہے جہاں عقائد پر سوال اٹھائے جا سکتے ہیں اور انسان بغیر کسی خوف کے بات کرسکتا ہے۔

رواں سال فیسٹیول میں 8 ممالک سے تعلق رکھنے والے 200 سے زائد مندوبین شرکت کریں گے، جن کے ساتھ 90 سے زائد سیشنز ہوں گے۔

پروگرام میں تین زبانوں میں 28 کتابوں کی رونمائی، دو دستاویزی فلمیں اور دو فیچر فلمیں بھی شامل ہیں۔

کراچی لٹریچر فیسٹیول میں سینیٹر شیری رحمان، محمد حنیف، ناصر عباس نیر اور خورشید رضوی کے کلیدی خطابات بھی شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ ملک اور بیرونِ ملک سے ممتاز ادیبوں، شاعروں، ناقدین اور دانشوروں کی بڑی تعداد بھی اس فیسٹیول کا حصہ بنے گی۔