بھاٹی گیٹ واقعہ: تشدد کے الزام میں گرفتار پولیس افسران کا جسمانی ریمانڈ منظور
لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں مین ہول میں گر کر ماں بیٹی کے جاں بحق ہونے کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔ عدالت نے مقدمے میں گرفتار پانچ ملزمان کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کی منظوری دے دی ہے، تاکہ واقعے سے متعلق مزید تفتیش مکمل کی جا سکے۔
دوسری جانب، حادثے میں جاں بحق خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ کو مبینہ طور پر غیر قانونی حراست میں رکھنے اور اس پر تشدد کرنے کے معاملے پر پولیس کی اعلیٰ سطحی انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی کمیٹی نے انکوائری مکمل کر لی ہے۔
انکوائری رپورٹ میں ایس پی سٹی بلال اور ایس ایچ او بھاٹی زین کو قصوروار قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں افسران نے اپنے بیانات میں تسلیم کیا کہ غلام مرتضیٰ کو افسرانِ بالا کے حکم پر حراست میں لیا گیا اور اس پر ہلکا پھلکا تشدد بھی کیا گیا۔
افسران کا مؤقف تھا کہ ریسکیو اہلکاروں نے ابتدائی طور پر یہ رائے دی تھی کہ مذکورہ مقام پر خاتون کا ڈوبنا ممکن نہیں، جس کے باعث شبے کی بنیاد پر غلام مرتضیٰ کو تھانہ بھاٹی منتقل کیا گیا۔
انکوائری میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ غلام مرتضیٰ کو موقع سے تھانے لے جایا گیا، جبکہ دیگر رشتہ داروں سے موقع پر پوچھ گچھ نہیں کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق پولیس افسران نے فوری طور پر لڑکی کے والد کو فون کیا اور غلام مرتضیٰ کے رشتہ دار تنویر کو بھی تھانے میں بٹھائے رکھا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ غلام مرتضیٰ کو ایس ایچ او کے کمرے میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کمرے میں نصب کیمرے کی ویڈیو بھی حاصل کر لی گئی ہے۔
انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا کہ غلام مرتضیٰ کو تقریباً ساڑھے چار گھنٹے غیر قانونی حراست میں رکھا گیا اور اس پر قتل کا الزام قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔
انکوائری ٹیم نے شورکوٹ جا کر غلام مرتضیٰ کا بیان بھی ریکارڈ کیا۔ رپورٹ میں دونوں پولیس افسران کے طرزِ عمل کو انتہائی غیر پیشہ ورانہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ واقعے کو بری طرح مس ہینڈل کیا گیا۔
انکوائری کے نتیجے میں ایس پی سٹی بلال اور ایس ایچ او بھاٹی زین کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ رپورٹ آئی جی پنجاب کو پیش کر دی گئی ہے، جو آگے چل کر وزیراعلیٰ پنجاب کو اس حوالے سے آگاہ کریں گے۔














