اسرائیل ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے امریکا پر دباؤ ڈال رہا ہے، ترک وزیر خارجہ

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کی بحالی ناگزیر ہے، ہاکان فیدان
شائع 31 جنوری 2026 10:07am

ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے ایرانی وزیر خارجہ کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا کردار خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک ہے اور اسرائیل ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے امریکا پر دباؤ ڈال رہا ہے۔

ہاکان فیدان کا کہنا تھا کہ ترکیہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی سخت مخالفت کرتا ہے، کیونکہ اس طرح کے اقدامات سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھے گی اور اس کے منفی اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کی بحالی ناگزیر ہے اور سفارتی ذرائع سے مسائل کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

ترک وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ امریکا ایران پر حملہ نہیں کرے گا اور تمام فریق دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرامن راستہ اختیار کریں گے۔

واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں حالیہ عرصے کے دوران اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ عالمی برادری خطے میں کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ اِسی مشترکہ نیوز کانفرنس میں ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات اور جنگ  دونوں کے لیے تیار ہے اور اب ماضی کی 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں زیادہ محتاط ہے اور اس بار امریکا کی براہِ راست مداخلت کے باعث حالات بالکل مختلف ہوں گے اور بدقسمتی سے یہ جنگ دو طرفہ تنازع سے آگے بھی جا سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ کشیدگی کا واحد حل سفارت کاری ہے اور ایران بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود سفارتی راستہ ترک نہیں کرے گا۔