ٹرمپ کے ایک بیان نے ڈالر کی قیمت گرا دی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کے بعد امریکی ڈالر شدید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں یورو، جاپانی ین اور برطانوی پاؤنڈ کی قدر میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بدھ کے روز ڈالر تقریباً چار سال کی کم ترین سطح کے قریب ٹریڈ کرتا نظر آیا۔
یورو 2021 کے بعد پہلی بار 1.20 ڈالر کی سطح سے تجاوز کر کے 1.2015 ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ بھی 2021 کے بعد اپنی بلند ترین سطح کے قریب 1.3823 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔
صدر ٹرمپ نے منگل کو صحافیوں کے سوال کے جواب میں ڈالر کی قدر کو ”بہترین“ قرار دیا تھا۔ تاہم تاجروں نے اس بیان کو ڈالر فروخت کرنے کا اشارہ سمجھا، جس سے مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ مزید بڑھ گیا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا بیان اگرچہ نیا نہیں تھا، لیکن ایسے وقت میں سامنے آیا جب ڈالر پہلے ہی دباؤ میں تھا اور سرمایہ کار امریکا اور جاپان کی جانب سے ممکنہ مشترکہ کرنسی مداخلت کے خدشات پر نظر رکھے ہوئے تھے تاکہ ین کو مستحکم کیا جا سکے۔
کیپٹل ڈاٹ کام کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار کائل روڈا نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ یہ صورتحال امریکی ڈالر پر اعتماد کے بحران کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک ٹرمپ انتظامیہ کی تجارتی، خارجہ اور معاشی پالیسیاں غیر یقینی رہیں گی، ڈالر کی کمزوری برقرار رہ سکتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ڈالر 2025 سے اب تک مجموعی طور پر نو فیصد سے زائد گر چکا ہے، جبکہ رواں سال جنوری میں ہی اس کی قدر میں تقریباً 2.3 فیصد کمی آ چکی ہے۔ سرمایہ کاروں کے خدشات میں امریکی فیڈرل ریزرو کی خودمختاری، بڑھتے ہوئے سرکاری اخراجات اور عالمی سفارتی پالیسیوں پر بے یقینی شامل ہے۔
سرمایہ کاروں کی نظریں اب فیڈرل ریزرو کے آئندہ پالیسی فیصلے پر مرکوز ہیں، جہاں توقع کی جا رہی ہے کہ مرکزی بینک شرح سود میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کرے گا۔
ڈالر کی کمزوری سے جاپانی ین کو مزید سہارا ملا اور یہ 152.60 فی ڈالر تک مضبوط ہو گیا، جو تین ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔ جاپانی حکام کے مطابق امریکا کے ساتھ زرمبادلہ کے معاملات پر قریبی رابطہ برقرار ہے، تاہم کسی ممکنہ مداخلت کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
دوسری جانب آسٹریلوی ڈالر بھی بڑھ کر 0.70225 ڈالر تک پہنچ گیا، جو فروری 2023 کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔ یہ اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ دسمبر کی سہ ماہی میں مہنگائی کی شرح میں توقع سے زیادہ اضافہ ہوا، جس سے آسٹریلیا کے مرکزی بینک کی جانب سے جلد شرح سود بڑھانے کی توقعات مضبوط ہو گئی ہیں۔















