سعودی عرب میں دنیا کی سب سے بڑی عمارت ’دی کیوب‘ پر کام بند

مکعب کی منصوبہ بندی 400 میٹر لمبے اور 400 میٹر چوڑے کیوب کی شکل میں کی گئی تھی۔
شائع 28 جنوری 2026 10:46am
علامتی تصویر: اے آئی
علامتی تصویر: اے آئی

سعودی عرب نے دارالحکومت ریاض میں نئے مربع ترقیاتی منصوبے کے مرکزی حصے میں تعمیر کیے جانے والے بڑی کیوب نما عمارت ”مکعب“ کی منصوبہ بندی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔

رائٹرز کے مطابق یہ فیصلہ منصوبے کی مالیاتی اور عملی امکانات کا دوبارہ جائزہ لینے کے لیے کیا گیا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب اپنے ”ویژن 2030“ کے تحت بہت بڑے اور مہنگے منصوبوں کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کررہا ہے۔

سعودی عرب کے 925 ارب ڈالر مالیت کے خودمختار فنڈ نے اپنے مالی وسائل کے استعمال اور اخراجات پر نظرثانی کرتے ہوئے اس قسم کے مہنگے منصوبوں میں کمی کرنے یا انہیں مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 تصویر: بشکریہ رائٹرز
تصویر: بشکریہ رائٹرز

سعودی عرب اب کراؤن پرنس محمد بن سلمان کے ”ویژن 2030“ کے تحت چلنے والے مستقبل کے مہنگے منصوبوں کو چھوڑ کر ایسے منصوبوں پر توجہ مرکوز کر رہا ہے جو زیادہ فوری اور ممکنہ طور پر منافع بخش سمجھے جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اب توجہ ایسے منصوبوں پر ہے جن میں 2030 کی عالمی نمائش اور 2034 کے عالمی فٹبال کپ کے لیے انفراسٹرکچر، 60 ارب ڈالر مالیت کے دریہہ کلچرل زون اور قدّیہ ٹورزم میگا پروجیکٹ شامل ہیں۔

مکعب کی منصوبہ بندی 400 میٹر لمبے اور 400 میٹر چوڑے کیوب کی شکل میں کی گئی تھی، جس کے اندر ایک گنبد نما ڈھانچہ ہوگا اور اس میں دنیا کا سب سے بڑا اے آئی سے چلنے والا ڈسپلے نصب کیا جانا تھا، جسے عمارت کے اندر موجود 300 میٹر سے بھی بلندی سے دیکھا جا سکتا تھا۔

منصوبے کے سی ای او مائیکل ڈائیک نے دسمبر میں ایک کانفرنس میں کہا تھا کہ ”مکعب میں داخل ہوتے ہی ایک الگ دنیا میں قدم رکھیں گے“۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس جیسے جدید اور منفرد منصوبے کو حقیقت میں لانا بہت مشکل کام ہے۔

اس منصوبے کا مستقبل اب غیر یقینی ہے، کیونکہ مٹی کی کھدائی اور بنیادوں کے کام کے علاوہ تمام تعمیراتی کام معطل کر دیے گئے ہیں، جبکہ ارد گرد کے رئیل اسٹیٹ کے منصوبے جاری رہیں گے۔

 علامتی تصویر اے آئی
علامتی تصویر اے آئی

سعودی عرب اب اپنے مالی وسائل کو زیادہ فائدہ مند اور فوری منافع دینے والے شعبوں پر مرکوز کر رہا ہے، جیسے کہ انفراسٹرکچر، لاجسٹکس، معدنیات اور مصنوعی ذہانت۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب تیل کی قیمتیں مطلوبہ سطح سے کم رہنے کے باعث سرکاری خزانے پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

مکعب کے ساتھ ساتھ دیگر بڑے منصوبے بھی نظرِ ثانی کی زد میں ہیں۔ سعودی اقتصادی وزیر فیصل ابراہیم نے کہا کہ حکومت شفاف انداز میں منصوبوں کو معطل، مؤخر یا دوبارہ ترتیب دینے کا فیصلہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کسی مخصوص منصوبے کا ذکر نہیں کیا، تاہم مکعب پہلا منصوبہ ہے جسے ریاض میں عملی امکانات کی بنیاد پر دوبارہ پرکھا جا رہا ہے۔

نیو مربع ڈسٹرکٹ کی کل لاگت تقریباً 50 ارب ڈالر تخمینہ لگائی گئی ہے، جو اردن کی مجموعی قومی پیداوار کے برابر ہے۔ منصوبے میں 104,000 رہائشی یونٹس بننے اور 180 ارب ریال کے اضافے سے معیشت میں مدد ملنے کا امکان تھا، جبکہ 2030 تک 334,000 افراد کو براہِ راست اور غیر مستقیم ملازمتیں فراہم کرنے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔

مکعب کے ڈیزائن کو سوشل میڈیا پر کچھ حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا کیونکہ اس کی شکل مسجد الحرام میں موجود کعبۃ اللہ کے مشابہ تھی۔