علینہ عامر نے اپنی مبینہ ویڈیو لیک کی حقیقت بتا دی
معروف ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر علینہ عامر نے حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی نازیبا ویڈیو پر کھل کر ردِعمل دیتے ہوئے اسے جعلی اور ڈیپ فیک قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو بدنیتی پر مبنی ایک منظم مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد انہیں بدنام کرنا ہے۔
علینہ عامر کے مطابق وہ ابتدا میں اس معاملے پر خاموش رہنا چاہتی تھیں اور تقریباً ایک ہفتے تک سوشل میڈیا پر ہونے والی باتوں کو نظرانداز کرتی رہیں، مگر جب بار بار ایسی پوسٹس سامنے آنے لگیں جن میں دعویٰ کیا جارہا تھا کہ ان کی کوئی ویڈیو لیک ہوگئی ہے، تو انہوں نے خاموشی توڑنے کا فیصلہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات خاموشی کو کمزوری سمجھ لیا جاتا ہے، اسی لیے انہوں نے ضروری سمجھا کہ حقائق عوام کے سامنے رکھے جائیں۔
اپنے بیان میں علینہ عامر نے کہا کہ وہ ایسے لوگوں کی ذہنیت پر شدید حیران ہیں جو کسی کو بدنام کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بغیر تصدیق کے جھوٹی معلومات پھیلانا نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ ایک سنگین جرم بھی ہے۔
علینہ نے عوام سے اپیل کی کہ کسی بھی مواد کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی حقیقت جانچنا ضروری ہے، کیونکہ ایک غلط پوسٹ کسی کی زندگی کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔
علینہ عامر نے کہا کہ سی سی ڈی اس وقت پنجاب میں مؤثر انداز میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چھٹہ سے خصوصی طور پر اپیل کی کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ایسی جعلی اور نازیبا اے آئی ویڈیوز بنانے والوں کو سخت ترین سزا دی جائے، تاکہ یہ رجحان روکا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی لڑکی کی جعلی ویڈیو بنا کر اسے بدنام کرنا بھی ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے، اور یہ مسئلہ صرف مشہور شخصیات تک محدود نہیں۔ علینہ کے مطابق کئی عام اور نجی زندگی گزارنے والی لڑکیوں کو بھی اس قسم کی ڈیپ فیک ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کیا جا رہا ہے، حتیٰ کہ یہ مواد ان کے اہلِ خانہ کو بھیج کر ان کی زندگیاں تباہ کی جا رہی ہیں۔
علینہ عامر نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ان کا تعلق ایک تعلیم یافتہ خاندان سے ہے جو ان پر مکمل اعتماد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے خاندان کے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچا سکتیں اور نہ ہی ایسی کسی حرکت کا تصور کر سکتی ہیں۔
آخر میں علینہ عامر نے اعلان کیا کہ اگر کوئی شخص انہیں اس جعلی ویڈیو بنانے والے عناصر کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرے گا تو وہ اسے نقد انعام دیں گی۔ ساتھ ہی انہوں نے تمام لڑکیوں کو پیغام دیا کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں خاموش رہنا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا ہی واحد راستہ ہے۔
















