عالمی قانون کا مساوی اطلاق ہونا چاہیے؛ طاقت کی بالادستی سے عدم استحکام بڑھ رہا ہے: پاکستان

طے شدہ اصولوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو قانون اپنی اہمیت کھو دیتا ہے: عاصم افتخار
اپ ڈیٹ 27 جنوری 2026 10:34am

پاکستان نے بین الاقوامی قانون کے مضبوط اور یکساں احترام پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ قانونی اصولوں کے انتخابی اطلاق سے عالمی عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی مباحثے میں 26 جنوری کو پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ قانون کی بالادستی کمزور ہونے سے تنازعات، انسانی بحران اور ممالک کے درمیان اعتماد میں کمی آ رہی ہے۔

عاصم افتخار کے مطابق بین الاقوامی قانون کا مقصد ریاستوں کے درمیان تعلقات کو قابلِ پیش گوئی اور مستحکم بنانا ہے، لیکن جب طے شدہ اصولوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو قانون اپنی اہمیت کھو دیتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصول، جن میں ریاستی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور طاقت کے استعمال کی ممانعت شامل ہیں، پہلے کے مقابلے میں زیادہ چیلنج کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے فریم ورک سے ہٹ کر یکطرفہ اقدامات کو معمول بنانے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ قانونی اصولوں کا انتخابی اطلاق، معاہدوں کی خلاف ورزی اور یکطرفہ اقدامات نے ریاستوں کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر پر قائم کثیرالجہتی نظام دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔

ان کے مطابق جب قانون طاقت یا وقتی مفاد کے تابع ہو جائے تو عدم استحکام بڑھتا ہے، تنازعات جڑ پکڑ لیتے ہیں اور پرامن بقائے باہمی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

بھارت کے ساتھ کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کا براہِ راست تجربہ کیا ہے۔

ان کے مطابق گزشتہ سال بھارت کی جانب سے فوجی جارحیت ہوئی، جس کے جواب میں پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اور پانی کی تقسیم سمیت معاہدوں کی پاسداری ضروری ہے۔

اس حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ کہ خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ ہے، جو سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ کشمیری عوام کو حق خودارادیت سے محروم رکھنا سنگین انسانی حقوق کے مسائل کو جنم دے رہا ہے اور پائیدار امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

عاصم افتخار نے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو بین الاقوامی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا، جس سے لاکھوں افراد کی زندگی اور روزگار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

پاکستان نے پانی اور قدرتی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے معاہدوں کی پاسداری کو عالمی قانونی نظام کی بنیاد قرار دیا۔

عالمی تناظر میں بات کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک طویل عرصے سے بین الاقوامی نظام میں دوہرے معیار کے اثرات جھیلتے آئے ہیں، اس کے باوجود گلوبل ساؤتھ کے ممالک اقوام متحدہ اور منصفانہ، اصولوں پر مبنی عالمی نظام پر اعتماد رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کی امن، سلامتی اور ترقی کی خواہشات کو اقوام متحدہ میں اصلاحات اور کثیرالجہتی نظام کی تشکیل میں مرکزی حیثیت ملنی چاہیے، جہاں برابری، جمہوریت اور جوابدہی کو فوقیت ہو اور کسی کے لیے خصوصی مراعات نہ ہوں۔

انہوں نے بعض مثبت پیش رفتوں کا بھی ذکر کیا، جن میں بین الاقوامی سمندری قانون میں پیش رفت اور فلسطین و ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی حالیہ مشاورتی آرا شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے قانونی فیصلوں کا احترام ہر جگہ اور سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔

فلسطین کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے غیر مساوی اطلاق کے نتائج وہاں واضح ہیں۔

ان کے مطابق حقِ خودارادیت سے انکار اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظر انداز کرنا عالمی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔

پاکستان نے بین الاقوامی قانون پر عملدرآمد مضبوط بنانے کے لیے چند تجاویز بھی پیش کیں، جن میں سلامتی کونسل کی قراردادوں کے نفاذ کی بہتر نگرانی، کونسل کو باقاعدہ قانونی بریفنگز اور تنازعات کے حل کے لیے بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے کردار میں اضافہ شامل ہے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ قانون کی بالادستی محض بیانات سے قائم نہیں ہو سکتی۔

ان کے مطابق اگر کثیرالجہتی نظام کو برقرار رکھنا ہے تو طاقت پر قانون اور سزا سے بچاؤ پر انصاف کو ترجیح دینا ہوگی۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان تنازعات کے پرامن حل اور اقوام متحدہ کے مرکزیت والے، مساوی اصولوں پر مبنی عالمی نظام کی حمایت جاری رکھے گا، جہاں ذمہ داریوں کی پاسداری ہو اور اقوام متحدہ امن، انصاف اور انسانی وقار کی حقیقی ضامن بنے۔

پاکستان نے بین الاقوامی قانون پر عملدرآمد مضبوط بنانے کے لیے تجاویز بھی پیش کیں، جن میں سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کی مؤثر نگرانی، قانونی تنازعات میں عالمی عدالتِ انصاف سے زیادہ رجوع، اور کونسل کے ایجنڈے پر شامل معاملات پر باقاعدہ قانونی بریفنگز شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے اداروں کو مشاورتی آرا کے حصول کے لیے عالمی عدالت سے زیادہ رابطہ رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔