اسلامی ممالک کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے تیار ہیں: چین
چین نے اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور ترقی پذیر ممالک کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق پیر کے روز اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے بیجنگ میں وزیرِ خارجہ وانگ یی سے ملاقات کی۔
اس موقع پر وانگ یی نے کہا کہ او آئی سی اسلامی دنیا کی سب سے بڑی بین الحکومتی تنظیم ہے اور چین ہمیشہ اسلامی ممالک اور او آئی سی کے ساتھ تعلقات کو اسٹریٹجک اہمیت دیتا رہا ہے۔
چینی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ چین سنکیانگ سے متعلق امور اور تائیوان کے مسئلے پر اسلامی ممالک اور او آئی سی کی جانب سے چین کی بھرپور حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ چین دنیا کو جنگل کے قانون کی طرف واپس لے جانے کی مخالفت کرتا ہے اور اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر ترقی پذیر ممالک کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔

چینی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ چین اور او آئی سی کے ممبر ملکوں کو بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت باہمی تعاون پر توجہ دینی چاہیے۔ علاقائی تنازعات کے سیاسی حل اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے بھی مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
وانگ یی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چین اور او آئی سی کو اقوامِ متحدہ کے کردار اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کا احترام کرنا چاہیے اور عالمی سطح پر منصفانہ طرزِ حکمرانی کے قیام میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم ’وَن چائنہ‘ کے اصول کی حامی ہے اور چین کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت کی مخالفت کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سنکیانگ میں ترقیاتی منصوبے خوش آئند ہیں۔ او آئی سی چین کے ساتھ شراکت داری میں اضافے اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے کی خواہاں ہے۔
حسین ابراہیم طہٰ نے فلسطین کے مسئلے کے جامع، دیرپا اور منصفانہ حل کے لیے چین کی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ چین آئندہ بھی اس حوالے سے مزید مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔
















