چینی وزارتِ دفاع کی اعلیٰ ترین فوجی افسران کے خلاف تحقیقات کی تصدیق
چین کی حکومت نے دو سینئر ترین فوجی افسران کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات پر تحقیقات شروع کر دی ہیں، جن میں صدر شی جن پنگ کے قریبی سمجھے جانے والے جنرل ژانگ یو ژیا بھی شامل ہیں۔
چین کی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ کمیونسٹ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی ہدایات پر چین کی فوج کے دو اعلیٰ ترین افسران کے خلاف الزامات کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
چینی وزارتِ دفاع کے مطابق ان افسران میں چین کی فوج کے سینئر ترین افسر جنرل ژانگ یوژیا اور لیو ژینلی شامل ہیں۔
جنرل ژانگ یوژیا صدر شی جن پنگ کے ماتحت سینٹرل ملٹری کمیشن کے نائب چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، جو چین کا اعلیٰ ترین فوجی کمانڈ ادارہ ہے۔ وہ حکمراں کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ ترین فورم ’پولیٹیکل بیورو‘ کے رکن بھی ہیں اور اُن چند سینئر فوجی افسران میں شامل ہیں جن کے پاس عملی جنگی تجربہ موجود ہے۔
دوسرے افسر لیو ژین لی سینٹرل ملٹری کمیشن کے رکن اور سی ایم سی کے جوائنٹ اسٹاف ڈیپارٹمنٹ کے چیف آف اسٹاف کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
وزارتِ دفاع نے واضح کیا ہے کہ ان دونوں اعلیٰ فوجی افسران کو تحقیقات کے دائرے میں لانے کا فیصلہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کی جانب سے کیا گیا ہے۔
تاہم دونوں افسران پر اس وقت کیا الزامات ہیں، اسکی تفصیلات یا نوعیت کے بارے میں چین کے سرکاری حکام کی جانب سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔
دوسری جانب تائیوان نے کہا ہے کہ وہ چین کی فوجی قیادت میں ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
رائٹرز کے مطابق تائیوان کے وزیرِِ دفاع ویلنگٹن کُو نے کہا ہے کہ تائیوان چین کی فوجی قیادت میں ہونے والی غیر معمولی تبدیلیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ چین نے کبھی بھی تائیوان کے خلاف طاقت کے استعمال کا آپشن ترک نہیں کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تائیوان کسی بھی صورت اپنی دفاعی تیاریوں میں کمی نہیں کرے گا۔















