گرین لینڈ سے متعلق عملی مذاکرات تین فریقین کے درمیان ہوں گے: نیٹو سربراہ
مغربی ممالک کے فوجی اتحاد (نیٹو) کے سربراہ مارک رُٹے نے واضح کیا ہے کہ گرین لینڈ سے متعلق تمام عملی مذاکرات امریکا، ڈنمارک اور خود گرین لینڈ کے درمیان ہوں گے، جب کہ نیٹو کا کردار آرکٹک خطے میں مشترکہ سلامتی کو مضبوط بنانے تک محدود رہے گا۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے معاملے پر سخت مؤقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے طاقت کے استعمال اور تجارتی محصولات عائد کرنے کی دھمکیوں کو واپس لیا ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مارک رُٹے نے کہا کہ آرکٹک میں اضافی سکیورٹی اقدامات کے حوالے سے اب نیٹو کی اعلیٰ عسکری قیادت تفصیلات طے کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ یہ عمل 2026 کے اوائل تک مکمل کر لیا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈنمارک کے نیم خودمختارعلاقے گرین لینڈ پر خودمختاری حاصل کرنے کی خواہش نے نیٹو اتحاد میں شدید تشویش پیدا کر دی تھی۔ اس معاملے نے نہ صرف دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم مغربی دفاعی اتحاد کو خطرے میں ڈالا بلکہ یورپ اور امریکا کے درمیان نئی تجارتی جنگ کے خدشات بھی جنم لے آئے تھے۔
تاہم بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے اچانک اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے ان ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی واپس لے لی جو ان کے منصوبے کی مخالفت کر رہے تھے اور واضح کیا کہ گرین لینڈ پر قبضے کے لیے طاقت کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔
اس فیصلے کے بعد یورپی مالیاتی منڈیوں میں بہتری دیکھی گئی، مگر سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بحران نے ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کو گہرا نقصان پہنچایا ہے۔
ڈنمارک کی وزیرِاعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا کہ نیٹو کے ساتھ گرین لینڈ کی خودمختاری کے حوالے سے کوئی مذاکرات نہیں ہوئے، البتہ اب آرکٹک خطے میں مشترکہ سلامتی کے فروغ پر بات چیت ممکن ہو سکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صورت حال اب بھی سنجیدہ ہے، تاہم مثبت پیش رفت ضرور ہوئی ہے۔
مارک رُٹے سے ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایک ایسا معاہدہ ممکن ہے جس کے ذریعے امریکا کو میزائل دفاعی نظام اور اہم معدنی وسائل تک رسائی حاصل ہو سکے، جب کہ آرکٹک میں روس اور چین کے مبینہ عزائم کو روکا جا سکے۔
تاہم نیٹو سربراہ نے واضح کیا کہ معدنیات کے موضوع پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی اور گرین لینڈ سے متعلق عملی مذاکرات امریکا، ڈنمارک اور خود گرین لینڈ کے درمیان ہوں گے۔
مارک رُٹے نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ آرکٹک میں نیٹو کی سرگرمیوں میں اضافے سے یوکرین کی حمایت متاثر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی صدر ٹرمپ سے ملاقات طے ہے اور یوکرین کے لیے نیٹو کی حمایت برقرار رہے گی۔
دوسری جانب یورپی یونین کے سفارت کاروں نے رائٹرز کو بتایا کہ گرین لینڈ بحران کے بعد یورپی قیادت امریکا کے ساتھ تعلقات پر ازسرِنو غور کر رہی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یورپ میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ امریکا ایک غیر متوقع شراکت دار بن چکا ہے، جس پر مکمل انحصار خطرناک ہو سکتا ہے۔
گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک میں بھی عوامی رائے منقسم نظر آئی۔ بعض شہریوں نے صدر ٹرمپ کے مؤقف میں تبدیلی پر اطمینان کا اظہار کیا، جب کہ دیگر نے اسے غیر یقینی صورت حال قرار دیتے ہوئے خدشات برقرار رکھے۔
ادھر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ گرین لینڈ کی ملکیت روس کے لیے کوئی مسئلہ نہیں، جب کہ چین کی وزارتِ خارجہ نے گرین لینڈ سے متعلق چین کے خطرے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے ڈیووس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ اختلافات کے باوجود نیٹو اور ٹرانس اٹلانٹک شراکت داری سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر یقینی بیانات اور پالیسیوں سے عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔













