گرین لینڈ پر ٹرمپ کے مؤقف میں اچانک تبدیلی، فوجی آپشن سے پیچھے ہٹانے میں کس کا کردار ہے؟

ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کے دوران ٹرمپ نے گرین لینڈ کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کو مسترد کیا
شائع 22 جنوری 2026 10:00am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے حصول کے لیے فوجی طاقت اور یورپ پر مجوزہ ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیوں سے دستبرداری اختیار کرلی، جس سے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سامنے آنے والے پالیسی انتشار کا ایک باب اختتام کو پہنچ گیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کے حصول کے لیے طاقت کے استعمال کے امکان سے پیچھے ہٹنا ان ہفتوں پر محیط پالیسی کا نتیجہ تھا، جس دوران اعلیٰ وائٹ ہاؤس حکام ایک ٹرمپ کے مطالبات پورے کرنے اور دوسری جانب امریکی اتحادیوں میں پیدا ہونے والی تشویش کم کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے۔

بدھ کو سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے واضح طور پر فوجی طاقت کے استعمال کو مسترد کیا، حالانکہ وہ اس سے قبل کئی ہفتوں تک ایسا کرنے سے انکار کرتے رہے تھے۔

اسی روز سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ یکم فروری سے نافذ کیے جانے والے مجوزہ ٹیرف عائد نہیں کریں گے۔

رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام کی جانب سے کم اشتعال انگیز حکمتِ عملی اختیار کرنے پر زور دیا جا رہا تھا، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کے کئی اہم ارکان ڈنمارک کے زیرِ انتظام گرین لینڈ پر فوجی طاقت کے استعمال کے حق میں نہیں تھے۔

ٹیرف کے منصوبے سے دستبرداری کے اعلان کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا کہ ڈیووس میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے سے ملاقات کے دوران گرین لینڈ اور مجموعی طور پر آرکٹک خطے سے متعلق ایک ممکنہ مستقبل کے معاہدے کا فریم ورک تیار کرلیا گیا ہے۔

انہوں نے اعلیٰ حکام کو اس ممکنہ معاہدے پر مذاکرات کی ذمہ داری بھی سونپ دی۔

یہ پیش رفت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ گرین لینڈ کے حصول سے متعلق صدر ٹرمپ کی دیرینہ دلچسپی بار بار سفارتی اور سیاسی حقائق سے ٹکراتی رہی ہے، جو ان کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران اچانک پالیسی تبدیلیوں اور فوری فیصلوں کی مثال بن چکی ہے۔ معاشی، سیاسی یا مارکیٹ دباؤ کے تحت صدر ٹرمپ ماضی میں بھی ٹیرف اور دیگر امور پر بارہا اپنا مؤقف تبدیل کرچکے ہیں۔

۔

گرین لینڈ کے معاملے پر فوجی آپشن کو سنجیدگی سے زیرِ غور نہ لانے سے متعلق سوال پر وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس صدر ٹرمپ کے فیصلے کے بغیر کسی آپشن کو رد نہیں کرتا۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر نے اعلان کیا ہے کہ وہ گرین لینڈ کے حصول کے لیے طاقت استعمال نہیں کریں گے اور پوری انتظامیہ ان کی قیادت پر عمل کرے گی۔ ترجمان کے مطابق اگر کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو امریکا کم سے کم طویل المدتی لاگت کے ساتھ اپنے اہداف حاصل کرلے گا۔

حالیہ ہفتوں میں صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر گرین لینڈ کے حصول کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اپنایا تھا کہ آرکٹک میں بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتے مقابلے کے تناظر میں یہ جزیرہ امریکی قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے۔

تاہم گرین لینڈ اور ڈنمارک کی قیادت نے ان کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ جزیرے کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام کریں گے، جبکہ امریکا پر دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی اپنانے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔

military options

U.S. President Donald Trump

Greenland Issue

reversal