ٹرمپ کا ’بورڈ آف پیس‘ کیا ہے، کون سے ممالک اس کا حصہ بننے پر راضی ہوچکے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی تنازعات کے حل کے لیے جس فورم کا اعلان کیا ہے اسے ’بورڈ آف پیس‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد دنیا کے مختلف تنازعات میں امن کے فروغ کے لیے ایک نیا بین الاقوامی فریم ورک بنانا ہے، تاہم سفارتی حلقوں میں اس پر بحث جاری ہے کہ آیا یہ فورم اقوام متحدہ کے کردار کو مضبوط کرے گا یا اسے کمزور کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔
بورڈ آف پیس کا خیال سب سے پہلے گزشتہ سال ستمبر میں سامنے آیا، جب صدر ٹرمپ نے غزہ جنگ کو ختم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔
بعد ازاں واضح کیا گیا کہ اس بورڈ کا دائرہ کار صرف غزہ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دنیا کے دیگر تنازعات کو بھی اس کے تحت لانے کی کوشش کی جائے گی۔
اس بورڈ کے مجوزہ چارٹر کے مطابق صدر ٹرمپ خود اس بورڈ کے پہلے چیئرمین ہوں گے اور یہ فورم عالمی سطح پر امن کے فروغ اور تنازعات کے حل کے لیے کام کرے گا۔
بورڈ کے ڈھانچے کے مطابق رکن ممالک کی مدت تین سال ہوگی، تاہم اگر کوئی ملک ایک ارب ڈالر کی رقم دے کر بورڈ کی سرگرمیوں کے لیے فنڈ فراہم کرے تو اسے مستقل رکنیت مل سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ابتدائی ایگزیکٹو بورڈ کا حصہ ہوں گے۔
اب تک کن ممالک نے اس دعوت کو قبول کیا ہے؟
اس حوالے سے وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ تقریباً 50 ممالک کو دعوت دی گئی تھی جن میں سے 35 کے قریب رہنماؤں نے شمولیت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
ان میں مشرق وسطیٰ کے کئی امریکی اتحادی شامل ہیں جیسے اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، اردن، قطر اور مصر۔
نیٹو کے رکن ممالک ترکیہ اور ہنگری نے بھی شمولیت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
اس کے علاوہ مراکش، پاکستان، انڈونیشیا، کوسوو، ازبکستان، قازقستان، پیراگوئے اور ویتنام بھی بورڈ آف پیس میں شامل ہونے والے ممالک میں شامل ہیں۔
آرمینیا اور آذربائیجان نے بھی اس فورم میں شرکت پر آمادگی ظاہر کی ہے، یہ دونوں ممالک گزشتہ سال امریکا کی ثالثی میں امن معاہدے تک پہنچے تھے۔
اس حوالے سے ایک اہم پہلو یہ ہے کہ بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے بھی اس دعوت کو قبول کر لیا ہے، حالانکہ ان کے ملک کو انسانی حقوق اور یوکرین جنگ میں روس کی حمایت پر مغرب کی تنقید کا سامنا رہا ہے۔ یہ پیش رفت واشنگٹن اور منسک کے درمیان تعلقات میں حالیہ بہتری کا اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔
روس اور چین نے تاحال واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ آیا وہ اس بورڈ میں شامل ہوں گے یا نہیں۔ دونوں ممالک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ہیں اور کسی ایسے اقدام کے حوالے سے محتاط ہیں جو اقوام متحدہ میں ان کے کردار کو کمزور کر سکتا ہو۔
ماضی میں اقوام متحدہ کو غیر مؤثر قرار دینے والے صدر ٹرمپ نے اس تاثر کو کم کرنے کی کوشش کی ہے کہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی جگہ لینا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کو اپنا کام جاری رکھنا چاہیے کیونکہ اس میں بڑی صلاحیت موجود ہے۔
کچھ ممالک نے اس بورڈ میں شمولیت سے انکار کیا ہے یا ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
ناروے اور سویڈن نے دعوت مسترد کر دی ہے، جبکہ اٹلی میں اس اقدام کو آئینی مسائل سے جوڑا جا رہا ہے۔
فرانس بھی شمولیت سے انکار کا ارادہ رکھتا ہے، جس پر صدر ٹرمپ نے فرانسیسی شراب پر بھاری ٹیرف لگانے کی دھمکی دی۔
کینیڈا نے اصولی طور پر شمولیت پر رضامندی ظاہر کی ہے مگر تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔
برطانیہ، جرمنی اور جاپان جیسے اہم اتحادیوں نے تاحال کھل کر مؤقف اختیار نہیں کیا۔
یوکرین نے کہا ہے کہ وہ دعوت کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم صدر زیلنسکی کے مطابق روس کے ساتھ ایک ہی فورم میں بیٹھنا ان کے لیے مشکل ہے۔
بورڈ آف پیس کے اختیارات کے حوالے سے بھی کئی سوالات موجود ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے نومبر میں ایک قرارداد کے ذریعے غزہ کے لیے اس بورڈ کے کردار کی منظوری دی تھی، مگر یہ منظوری صرف 2027 اور غزہ تک محدود ہے۔
اس قرارداد کے تحت بورڈ غزہ کی تعمیر نو کے لیے فریم ورک بنانے، فنڈز کی ہم آہنگی اور عارضی بین الاقوامی استحکام فورس تعینات کرنے کا مجاز ہے۔ بورڈ کو ہر چھ ماہ بعد سلامتی کونسل کو اپنی پیش رفت سے آگاہ کرنا ہوگا۔
یہ اب بھی واضح نہیں کہ بورڈ آف پیس کے پاس غزہ سے باہر کیا قانونی اختیارات یا عملی نفاذ کے ذرائع ہوں گے اور یہ اقوام متحدہ یا دیگر عالمی اداروں کے ساتھ کس طرح کام کرے گا۔
چارٹر کے مطابق اس بورڈ کے چیئرمین کو وسیع اختیارات حاصل ہوں گے، جن میں فیصلوں کو ویٹو کرنے اور ارکان کو ہٹانے کا اختیار بھی شامل ہے، تاہم ان پر کچھ حدود بھی لاگو ہوں گی۔
مجموعی طور پر بورڈ آف پیس کو ایک ایسا نیا عالمی تجربہ قرار دیا جا رہا ہے جس کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار عملی نتائج اور عالمی تعاون پر ہوگا۔














