سپریم کورٹ کا سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ

سزائے موت کی زیر التوا اپیلیں 26 اکتوبر 2024 کو 384 تھیں اور اب زیر التوا اپیلیں107 رہ گئی ہیں، اعلامیہ
شائع 21 جنوری 2026 10:02pm

سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کرلیا، اسی طرح 80 سال سے زائد عمر کے قیدیوں کی جیل پٹیشنز کو ترجیحی بنیادوں پر مقرر کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق بدھ کے روز چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل ریفارمز سے متعلق نواں انٹرایکٹو اجلاس منعقد ہوا، جس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر، سیکرٹری اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں عدالتی نظام میں اصلاحاتی اقدامات اور ریفارم ایکشن پلان کے تحت ماہانہ کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ کیس کیٹیگرائیزیشن کا عمل 2 ماہ میں مکمل ہو جائے گا اور مقدمات کی فائلوں پر ٹریکنگ فائلز کے لیے بار کوڈنگ سسٹم اگلے 15 دنوں میں مکمل ہوجائے گا جب کہ اجلاس میں سزائے موت اور فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ لیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ جب چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے منصب سنبھالا تو سزائے موت کی زیر التوا اپیلیں 26 اکتوبر 2024 کو 384 تھیں اور اب زیر التوا اپیلیں 107 رہ گئی ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ 26 اکتوبر 2024 سے لے کر اب تک سزائے موت کی 172 نئی اپیلیں دائر ہوئیں جب کہ 449 اپیلیں نمٹائی گئیں۔

چیف جسٹس کی زیرصدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سزائے موت کی زیر التوا تمام اپیلیں اگلے 45 دنوں میں سن کر نمٹائی جائیں گی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ چیف جسٹس نے جب منصب سنبھالا تو عمر قید کی زیر التوا اپیلوں کی تعداد 4160 تھی جو کم ہو کر 3608 رہ گئی ہیں تاہم عمر قید کی اپیلوں کو نمٹانے کی ٹائم لائنز سزائے موت کی اپیلیں نمٹانے کے بعد طے کی جائیں گی۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ 80 سال یا اس سے زائد عمر کے سزا یافتہ ملزمان کی جیل پٹیشنز ترجیحی بنیاد پر فکس ہوں گی اور بتایا گیا کہ عدالتی ریکارڈ بڑے پیمانے تک ڈیجیٹلائیز ہوچکا ہے۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے پٹیشنز کی سافٹ کاپیز اور ای فائلنگ پر بار کا شکریہ ادا کیا اور اجلاس سے خطاب میں کہا کہ بروقت انصاف کی فراہمی نہ صرف آئینی بلکہ اخلاقی ذمہ داری بھی ہے اور عدالتی نظام میں اصلاحات کا مقصد عوام کو فوری اور مؤثر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

Supreme Court

اسلام آباد

cheif justice of pakistan

chief justice yahya afridi

Yahya Afridi

court reforms

pending case