امریکا کا نیٹو میں اپنا عملہ کم کرنے کا فیصلہ، یورپ میں تشویش بڑھ گئی
امریکا نے نیٹو کے مختلف اہم کمانڈ سینٹرز میں تعینات اپنے عملے کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس فیصلے کے تحت امریکا نیٹو کے اُن اداروں سے تقریباً دو سو آسامیاں ختم کرے گا جو اتحادی افواج اور انٹیلی جنس سرگرمیوں کی نگرانی اور منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس فیصلے سے متعلق کچھ یورپی حکومتوں کو آگاہ کر دیا ہے۔
متاثر ہونے والے اداروں میں برطانیہ میں قائم نیٹو انٹیلی جنس فیوژن سینٹر، برسلز میں الائیڈ اسپیشل آپریشنز فورسز کمانڈ اور پرتگال میں قائم سمندری کارروائیوں کی نگرانی کرنے والے اسٹرائیک فور نیٹو شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نیٹو کے چند دیگر ادارے بھی اس فیصلے کی زد میں آئیں گے۔
ذرائع نے اس اقدام کی واضح وجہ نہیں بتائی، تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی اس پالیسی سے مطابقت رکھتا ہے جس کے تحت امریکا اپنے زیادہ تر وسائل مغربی نصف کرے پر مرکوز کرنا چاہتا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ نے سب سے پہلے اس فیصلے کی خبر دی تھی۔
اگرچہ یہ کمی یورپ میں موجود امریکی فوجی طاقت کے مجموعی حجم کے مقابلے میں کم ہے اور اس سے بظاہر امریکا کے یورپ سے مکمل انخلا کا عندیہ نہیں ملتا، کیونکہ اس وقت یورپ میں تقریباً 80 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں جن میں سے تقریباً نصف جرمنی میں موجود ہیں، تاہم اس کے باوجود اس فیصلے کو علامتی طور پر اہم سمجھا جا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ اقدام یورپی ممالک میں پہلے سے موجود بے چینی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
یہ تشویش اس پس منظر میں مزید گہری ہو گئی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر گرین لینڈ کو ڈنمارک سے حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں، جسے نیٹو کے اندر ممکنہ علاقائی جارحیت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
حال ہی میں صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ دوبارہ شیئر کی جس میں نیٹو کو امریکا کے لیے خطرہ قرار دیا گیا تھا جبکہ چین اور روس کو محض فرضی خطرات کہا گیا تھا۔ اس اقدام نے بھی یورپی حلقوں میں بے چینی پیدا کی ہے۔
نیٹو کے ایک عہدیدار نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عملے میں اس طرح کی تبدیلیاں غیر معمولی نہیں ہیں اور اس وقت یورپ میں امریکی موجودگی گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نیٹو اور امریکی حکام ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں تاکہ اتحاد کی دفاعی اور روک تھام کی صلاحیت برقرار رکھی جا سکے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
ذرائع کے مطابق جن نیٹو اداروں میں کمی کی جا رہی ہے وہاں اس وقت تقریباً 400 امریکی اہلکار تعینات ہیں، اور نئی پالیسی کے بعد یہ تعداد تقریباً نصف رہ جائے گی۔ زیادہ تر معاملات میں امریکا اہلکاروں کو واپس بلانے کے بجائے ان کی جگہ نئے افراد تعینات نہیں کرے گا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیٹو اپنی 77 سالہ تاریخ کے ایک نہایت نازک سفارتی مرحلے سے گزر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ ماضی میں نیٹو سے نکلنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں اور انتخابی مہم کے دوران یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ جو ممالک دفاعی اخراجات میں مناسب حصہ نہیں ڈالتے، ان کے خلاف روسی حملوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے۔
تاہم 2025 کے وسط میں یورپی ممالک کی جانب سے دفاعی اخراجات بڑھانے پر اتفاق کے بعد وہ نیٹو کے حوالے سے نسبتاً مثبت رویہ اختیار کرتے دکھائی دیے تھے۔
حالیہ ہفتوں میں امریکا کے کچھ دیگر اقدامات نے بھی یورپ میں تشویش پیدا کی ہے۔ دسمبر کے اوائل میں پینٹاگون حکام نے سفارتکاروں کو بتایا کہ امریکا چاہتا ہے کہ یورپ 2027 تک نیٹو کی روایتی دفاعی صلاحیتوں کی بڑی ذمہ داری سنبھال لے، جسے یورپی حکام نے غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا۔
اس کے بعد جاری ہونے والی ایک امریکی قومی سلامتی دستاویز میں بھی اس بات پر زور دیا گیا کہ امریکا اپنی فوجی توجہ مغربی نصف کرے پر مرکوز کرے گا، جس سے یورپ کی ترجیحی حیثیت پر سوال اٹھنے لگے۔
2026 کے ابتدائی ہفتوں میں صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کے حصول کی مہم کو دوبارہ زندہ کر دیا، جس پر ڈنمارک اور دیگر یورپی ممالک میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
یورپی حکام کا کہنا ہے کہ نیٹو کے اندر کسی بھی قسم کی علاقائی جارحیت اتحاد کے مستقبل کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اس کے علاوہ صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ فروری سے وہ ڈنمارک کی خودمختاری کی حمایت کرنے والے چند نیٹو ممالک پر ٹیرف عائد کریں گے، جس کے جواب میں یورپی یونین بھی جوابی اقدامات پر غور کر رہی ہے۔
مجموعی طور پر امریکا کا نیٹو میں عملہ کم کرنے کا فیصلہ فوجی اعتبار سے محدود مگر سیاسی اور علامتی طور پر نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے، جو آنے والے دنوں میں امریکا اور یورپ کے تعلقات پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔













