گرین لینڈ تنازع: یورپی یونین کا بھی امریکا پر تجارتی وار کا عندیہ
گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول اور یورپی ممالک پر مجوزہ ٹیرف کے معاملے پر یورپ نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کو خطرناک قرار دیا ہے۔ یورپی یونین نے واضح کیا ہے کہ اگر دباؤ بڑھایا گیا تو ردِعمل متحد، مضبوط اور متناسب ہوگا۔
امریکی خبر رساں ادارے (اے پی) کے مطابق گرین لینڈ کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ اور یورپی ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیوں نے یورپ میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
یورپی یونین کی اعلیٰ قیادت نے امریکی مؤقف کو اتحادیوں کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچانے والا قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یورپ خاموش تماشائی نہیں بنے گا۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لائن نے ورلڈ اکنامک فورم ڈیووس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کا طرزِعمل دیرینہ اتحادیوں کے درمیان ایک سنگین غلطی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ امریکا اور یورپی یونین کے درمیان گزشتہ برس تجارتی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت مزید ٹیرف عائد نہ کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔
فان ڈیر لائن نے کہا کہ سیاست اور کاروبار دونوں میں ایک اصول ہوتا ہے، معاہدہ، معاہدہ ہی ہوتا ہے۔ اگر دوست ایک دوسرے سے ہاتھ ملائیں تو اس کا مطلب ہونا چاہیے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یورپ کو کسی ایسی صورت حال میں دھکیلنا جس سے تعلقات بگڑیں، صرف ان قوتوں کو فائدہ دے گا جو مغربی اتحاد کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کا ردِعمل غیر متزلزل، متحد اور متوازن ہوگا۔
یورپی یونین نے امریکا پر تجارتی جنگ کا عندیہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ممکنہ اقدامات کے جواب میں 93 ارب یورو کے ٹیرف پیکج پر غور کیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی پبلک ٹینڈرز، بینک سرمایہ کاری اور سروسز کی تجارت کو محدود کرنے کے آپشنز بھی زیرِ غور ہیں۔
یورپی حکام کے مطابق اس کا مقصد یہ ہے کہ اگر امریکا یا کوئی اور ملک یورپی یونین پر دباؤ ڈالے تو یورپ اپنے مفاد کا تحفظ کرتے ہوئے سخت معاشی پابندیاں عائد کر سکے۔
یورپی یونین کے امور کے لیے ڈنمارک کی وزیر میری بیرے نے ٹرمپ کی ٹیرف دھمکیوں کو انتہائی غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپ کو اب مزید مضبوط اور خودمختار بننے کی ضرورت ہے، اگرچہ یورپ کسی تجارتی جنگ کو بڑھانا نہیں چاہتا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ورلڈ اکنامک فورم، ڈیووس سے خطاب میں کہا کہ یورپ کو اہم شعبوں میں چین کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اور ہمیں یورپ کی ترجیحی راہ پر ڈٹے رہنا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ دنیا ایسی سمت جا رہی ہے جہاں قوانین کی پاسداری نہیں ہو رہی، سامراجی عزائم ابھر رہے ہیں، اور خود مختاری کے خلاف طاقت کے طور پر ناقابل قبول ٹیرف استعمال ہو رہے ہیں۔
میکرون نے واضح کیا کہ یورپ کے کچھ اہم شعبوں میں چینی سرمایہ کاری ضروری ہے تاکہ اقتصادی اور سٹریٹیجک مفادات کو یقینی بنایا جا سکے۔
ٹرمپ کے بیانات کے بعد یورپ بھر میں سفارتی رابطے تیز ہو گئے ہیں۔ یورپی نیٹو ممالک نے گرین لینڈ اور آرکٹک خطے میں مستقل دفاعی موجودگی پر غور شروع کر دیا ہے۔ سویڈن کے وزیر دفاع کے مطابق یورپی ممالک اس وقت انفراسٹرکچر، سیکیورٹی اور فوجی مشقوں کی ضروریات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ادھر گرین لینڈ میں بھی ہزاروں افراد نے امریکی کنٹرول کے خلاف مظاہرے کیے، جب کہ یورپی دارالحکومتوں میں یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ یہ تنازع نیٹو اتحاد کے لیے ایک بڑا امتحان بن سکتا ہے۔
اگرچہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور یورپ کے تعلقات مضبوط ہیں اور فریقین کو تحمل سے کام لینا چاہیے، لیکن یورپی قیادت کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اعتماد کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
ماہرین کے مطابق گرین لینڈ کا تنازع اب صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہا بل کہ یہ یورپ اور امریکا کے تعلقات، عالمی سلامتی اور نئی عالمی طاقتوں کے توازن کا مسئلہ بن چکا ہے۔















