ٹرمپ کو گرین لینڈ کے پیچھے لگانے والا کون؟

معروف کاروباری شخصیت نے امریکا کو گرین لینڈ خریدنے کی تجویز دی، دی گارجین رپورٹ
اپ ڈیٹ 17 جنوری 2026 11:04am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق غیر معمولی عزائم کے پیچھے ایک قریبی کاروباری دوست کا کردار سامنے آیا ہے۔ سابق قومی سلامتی مشیر جان بولٹن کے مطابق گرین لینڈ خریدنے کا خیال ٹرمپ کو ایک ممتاز کاروباری شخصیت نے دیا تھا، جس کے بعد یہ تجویز امریکی پالیسی مباحث کا حصہ بنتی چلی گئی۔

برطانوی اخبار گارڈین کو دیے گئے انٹرویو میں سابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے بتایا کہ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران ایک روز انہیں اوول آفس بلایا گیا، جہاں صدر نے بتایا کہ ایک معروف کاروباری شخصیت نے امریکا کو گرین لینڈ خریدنے کی تجویز دی ہے۔

بولٹن کے مطابق یہ ایک غیر معمولی تجویز تھی، جس کے بعد وائٹ ہاؤس میں ڈنمارک کے زیرِ انتظام اس وسیع خطے میں امریکی اثر و رسوخ بڑھانے کے امکانات پر غور شروع ہوا۔

بولٹن کے مطابق یہ تجویز رونالڈ لاؤڈر کی تھی، جو عالمی کاسمیٹکس برانڈ ایسٹی لاڈر کے وارث ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کے 60 سال سے زائد عرصے سے دوست ہیں۔ دونوں کی دوستی نیویارک میں ایک ہی بزنس اسکول میں تعلیم کے دوران ہوئی۔

بولٹن کا کہنا تھا کہ لاؤڈر سے گرین لینڈ کے بارے میں بات چیت بھی ہوئی اور ان کی مداخلت کے بعد وائٹ ہاؤس کی ایک ٹیم نے اس حوالے سے کام شروع کیا۔

بولٹن کے مطابق ٹرمپ اپنے دوستوں سے سننے والی باتوں کو حقیقت سمجھ لیتے ہیں اور پھر اپنی رائے بدلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے دوسرے دور میں گرین لینڈ کے بارے میں دوبارہ سنجیدگی اسی طرزِ عمل کی عکاسی کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق خیالات میں وقت کے ساتھ شدت آتی گئی، یہاں تک کہ وہ صرف خریداری ہی نہیں بلکہ طاقت کے استعمال پر بھی غور کرنے لگے۔ اسی دوران رونالڈ لاؤڈر نے گرین لینڈ میں اپنے تجارتی مفادات میں بھی اضافہ کیا۔ بتایا گیا ہے کہ لاؤڈر یوکرین کے معدنی وسائل تک رسائی کے خواہاں ایک کنسورشیم کا بھی حصہ ہیں، جس کے باعث ٹرمپ نے یوکرین سے وسائل میں حصہ مانگنے پر زور دیا۔

رونالڈ لاؤڈر ماضی میں ریگن انتظامیہ کے تحت پینٹاگون میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور بعد ازاں آسٹریا میں امریکی سفیر بھی رہے۔ انہوں نے 1989 میں نیویارک کے میئر کا انتخاب بھی لڑا، تاہم کامیاب نہ ہو سکے۔

ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد لاؤڈر نے 2016 میں ٹرمپ وکٹری فنڈ کو ایک لاکھ ڈالر کا عطیہ دیا اور 2018 میں ٹرمپ کو غیر معمولی ذہانت کا حامل قرار دیا۔

اسی سال لاؤڈر نے کہا تھا کہ وہ ٹرمپ کو پیچیدہ سفارتی معاملات میں مشورے دے رہے ہیں۔

سال 2019 میں وال اسٹریٹ جرنل نے ٹرمپ کی گرین لینڈ میں دلچسپی کا انکشاف کیا تھا، جس پر ڈنمارک میں شدید ردِعمل سامنے آیا تھا۔ جواباً ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کی تھی جس میں ایک دیہاتی علاقے پر سنہری ٹرمپ ٹاور دکھایا گیا تھا۔

ٹرمپ اور لاؤڈر کی گرین لینڈ میں دلچسپی برقرار رہی۔ گزشتہ سال ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد لاؤڈر نے اس وقت ان کا دفاع کیا جب صدر نے گرین لینڈ پر فوجی قبضے کا امکان ظاہر کیا۔

لاؤڈر نے نیویارک پوسٹ میں لکھا کہ یہ تصور غیر معقول نہیں بلکہ اسٹریٹجک ہے، کیونکہ گرین لینڈ میں نایاب معدنی عناصر موجود ہیں جو جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی نظام کے لیے اہم ہیں، جبکہ برف پگھلنے سے نئے بحری راستے بھی کھل رہے ہیں۔

چینی خبر رساں اداروں کے مطابق لاؤڈر نے کہا کہ وہ برسوں سے گرین لینڈ کے کاروباری اور سرکاری رہنماؤں کے ساتھ اسٹریٹجک سرمایہ کاری پر کام کر رہے ہیں۔

ڈنمارک کے کارپوریٹ ریکارڈز کے مطابق ایک نیویارک میں رجسٹرڈ کمپنی نے حالیہ مہینوں میں گرین لینڈ میں سرمایہ کاری کی، جس کا ایک منصوبہ لگژری اسپرنگ واٹر کی برآمد سے متعلق ہے۔ اس گروپ کی جانب سے ہائیڈرو الیکٹرک پاور کے منصوبے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

امریکی صدر کے حالیہ بیانات کے بعد، جن میں انہوں نے کہا کہ امریکا کو گرین لینڈ کی سخت ضرورت ہے، ڈنمارک کے وزیراعظم نے خبردار کیا کہ نیٹو کے کسی رکن کی جانب سے دوسرے رکن کے خلاف فوجی کارروائی اتحاد کو نقصان پہنچائے گی۔ تاہم ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا گرین لینڈ کے حوالے سے کوئی نہ کوئی قدم اٹھائے گا، چاہے وہ آسان طریقے سے ہو یا مشکل طریقے سے۔

ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے وائٹ ہاؤس ملاقات کے بعد کہا کہ امریکی مؤقف تبدیل نہیں ہوا اور صدر کی خواہش واضح ہے۔

ادھر ٹرمپ کے قریبی حلقے کے افراد کے کاروباری مفادات اور حکومتی پالیسیوں کے درمیان تعلقات پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ٹرمپ کے بڑے بیٹے ڈونلڈ جونیئر اور ایرک ٹرمپ دنیا بھر میں کاروباری سرگرمیوں میں مصروف ہیں، تاہم وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان سرگرمیوں اور صدر کے عہدے کے درمیان مکمل فاصلہ ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر یا ان کے خاندان نے کبھی مفادات کے ٹکراؤ میں ملوث ہونے کا ارادہ نہیں کیا۔

Billionaire

GREENLAND

Ronald Lauder

suggested

to acquire

encouraged trump