کھلاڑیوں کا احتجاج: بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر عہدے سے فارغ
بنگلادیش میں کھلاڑیوں کے شدید احتجاج اور بنگلادیش پریمیئر لیگ کے بائیکاٹ کے بعد بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے ڈائریکٹر نظم الاسلام کو عہدے سے ہٹا دیا ہے، جن پر کھلاڑیوں سے متعلق غیر مناسب بیان دینے کا الزام تھا۔
ذرائع کے مطابق بنگلادیشی کھلاڑیوں کے احتجاج نے بالآخر اثر دکھا دیا اور کرکٹ بورڈ نے ڈائریکٹر نظم الاسلام کو ان کے عہدے سے فوری طور پر برطرف کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بنگلادیش کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ نظم الاسلام کے کھلاڑیوں سے متعلق بیان کو غیر مناسب قرار دیا گیا ہے، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔
یاد رہے کہ نظم الاسلام کے بیان کے خلاف بنگلادیشی کھلاڑیوں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بنگلادیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ کھلاڑیوں کا مؤقف تھا کہ اس طرح کے بیانات ناقابل قبول ہیں اور ان سے کرکٹ کا ماحول متاثر ہو رہا ہے۔
بنگلادیش کی پلئرز ایسوسی ایشن نے بھی اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے مطالبات پورے ہونے تک کرکٹ نہ کھیلنے کی دھمکی دی تھی۔ کھلاڑیوں کے اجتماعی احتجاج کے باعث بی پی ایل کے میچز متاثر ہوئے، جس کے بعد کرکٹ بورڈ کو فوری اقدام کرنا پڑا۔
کرکٹ بورڈ کی جانب سے نظم الاسلام کی برطرفی کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ کھلاڑی اپنا احتجاج ختم کر دیں گے اور بی پی ایل کے معاملات معمول پر آ جائیں گے۔
معاملہ کیا ہے؟
بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے فنانس کمیٹی کے سربراہ نظم السلام نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ورلڈکپ میں بورڈ کو کچھ نہیں ملتا، اس لیے بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ولڈکپ میں شرکت نہ کرنے میں ہمارا کوئی نقصان نہیں البتہ کھلاڑیوں کو نقصان ہوگا کہ انہیں میچ فیس کی مد میں رقم نہیں ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ ورلڈکپ میں شرکت نہ کرنے پر کھلاڑیوں کا مالی ازالہ نہیں کریں گے، خراب پرفارمنس کے باوجود کھلاڑیوں پر کروڑوں ٹکہ خرچ کرتے ہیں، ہم نے کبھی کھلاڑیوں کو نہیں کہا کہ پیسے واپس کر دو، جب بورڈ نہیں ہوگا توکھلاڑی کیسے رہیں گے؟
















