ایران نے اپنی فضائی حدود جزوی طور پر کھول دیں؛ اسرائیل میں احتیاطی تیاریاں شروع
ایران نے امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث عارضی طور پر بند کی گئی اپنی فضائی حدود دوبارہ کھول دی ہیں۔
اس سے قبل ایرانی حکام نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ہر قسم کی پروازوں کے لیے فضائی حدود بند کر دی تھیں، تاہم بین الاقوامی پروازوں کو خصوصی اجازت کے ساتھ ایرانی فضائی حدود استعمال کرنے کی ایڈوائزی جاری کی گئی تھی۔
فضائی حدود کی بندش کے باعث متعدد پروازیں متاثر ہوئیں اور ایئرلائنز کو متبادل راستے اختیار کرنا پڑے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں فلائٹ ٹریکنگ سائٹ ’فلائٹ ریڈار 24‘ کے حوالے سے کہا کہ ایران نے تقریباً پانچ گھنٹے تک فضائی حدود بند رکھنے کے بعد تمام پروازوں کے لیے راستے بحال کر دیے ہیں۔
فضائی حدود کی بندش کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی بتائی گئی تھی، جس نے پورے خطے میں فضائی اور زمینی نقل و حرکت کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
اگرچہ فضائی حدود دوبارہ کھول دی گئی ہیں، تاہم، رپورٹ کے مطابق حالات معمول پر آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔
دوسری جانب ایک امریکی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل اور ایران نے روس کے ذریعے ایک دوسرے کو پیغامات بھجوا کر یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایک دوسرے پر پیشگی حملہ نہیں کریں گے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق دسمبر کے آخر میں ایران میں احتجاج شروع ہونے سے پہلے اسرائیلی حکام نے روسی چینل کے ذریعے ایرانی قیادت کو پیغام دیا تھا کہ اگر اسرائیل پر پہلا حملہ نہ ہوا تو وہ ایران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔
اس کے جواب میں ایران نے بھی روس کے ذریعے یہ پیغام بھجوایا کہ وہ بھی کسی قسم کے پیشگی حملے سے گریز کرے گا۔
تاہم اس کے ساتھ ہی امریکی میڈیا میں مختلف اندازے سامنے آ رہے ہیں۔
ایک امریکی ٹی وی چینل نے امکان ظاہر کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف زور دار اور فیصلہ کن حملہ کرنا چاہتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر طویل جنگ کے بجائے مختصر لیکن فیصلہ کن کارروائی کو ترجیح دیے رہے ہیں، جس سے خطے میں خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی آرمی چیف نے فوری طور پر دفاعی تیاریوں کا حکم دے دیا ہے۔
شمالی اسرائیل سمیت مختلف علاقوں میں بم شیلٹرز کھولنا شروع کر دیے گئے ہیں اور اسرائیل کو توقع ہے کہ اگر امریکا ایران پر حملے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس سے قبل اسرائیل کو آگاہ کیا جائے گا۔
ایران میں سیکیورٹی صورتحال کے باعث کئی یورپی ممالک نے بھی احتیاطی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ امریکا کے بعد اسپین، پولینڈ اور اٹلی نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ ایران میں موجود پاکستانیوں کی واپسی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایران میں تقریباً 600 اطالوی شہری موجود ہیں، جن کی اکثریت دارالحکومت تہران میں رہائش پذیر ہے۔ وزارت نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ موجودہ حالات کے پیش نظر ایران سے انخلا کی کوشش کریں۔
پولینڈ کی وزارتِ خارجہ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر ایران سے نکلنے کے انتظامات کریں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے بھی ایران سے اپنے تمام سفارتی عملے کو واپس بلا لیا ہے جبکہ برطانوی سفیر کو بھی تہران سے واپس طلب کر لیا گیا ہے۔













