ایران کو احتجاج کے بعد سرحدی خطرات، کرد مسلح گروہوں کی دراندازی
ایران میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق اس دوران مسلح کرد علیحدگی پسند گروہوں نے عراق سے ایران میں داخل ہونے کی کوشش کی ہے۔
علیحدگی پسند کرد گروہوں کی ایران میں اس دراندازی کو خطے میں عدم استحکام سے فائدہ اٹھانے کی ایک کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق، ایک سینیئر ایرانی عہدیدار سمیت اس معاملے سے واقف تین ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حالیہ دنوں میں دراندازی کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ترکیہ کی انٹیلی جنس ایجنسی نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس کو آگاہ کیا تھا کہ کرد جنگجو سرحد عبور کر کے ایران میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ پاسدارانِ انقلاب اور ان مسلح عناصر کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
ان کے مطابق ان جنگجوؤں کا مقصد ایران میں جاری احتجاجی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک میں مزید عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب ایک تربیت یافتہ اور طاقتور فورس ہے جو ماضی میں بھی ایران میں ہونے والی بدامنی اور احتجاجی لہر کو کنٹرول کر چکی ہے۔ موجودہ حالات میں بھی فورس کو سرحدی علاقوں میں الرٹ رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی بیرونی مداخلت کو روکا جا سکے۔
دوسری جانب ترکیہ کی انٹیلی جنس ایجنسی ’ایم آئی ٹی‘ اور انقرہ میں صدارتی دفتر کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔
تاہم ترکیہ اس سے قبل واضح کر چکا ہے کہ وہ شمالی عراق میں سرگرم کرد جنگجوؤں کو دہشت گرد سمجھتا ہے۔
ترکیہ نے حالیہ دنوں میں یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ ایران میں کسی بھی قسم کی غیر ملکی مداخلت پورے خطے کے بحران کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
مذکورہ ایرانی عہدیدار کے مطابق یہ مسلح عناصر عراق اور ترکیہ سے روانہ کیے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ تہران نے ان دونوں ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران آنے والے جنگجوؤں یا اسلحے کی منتقلی کو فوری طور پر روکیں تاکہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔













