بہت سے ممالک پاکستانی لڑاکا طیاروں کے لیے بات کر رہے ہیں: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معرکہ حق کے بعد پاکستان کے لڑاکا طیاروں کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے اور کئی ممالک اس حوالے سے رابطے میں ہیں۔ پاکستان کی عسکری قوت اور فضائی برتری کا اعتراف دی ٹیلی گراف کی رپورٹ میں بھی کیا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری افواج ہر روز بڑی کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں اور پاکستان جلد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیاب ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ لڑاکا طیارے ہماری سیکیورٹی اور دفاعی تیاری میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں اور کئی ممالک ان طیاروں کے حصول کے لیے بات چیت کر رہے ہیں، جس سے پاکستان کی دفاعی استعداد میں اضافہ ہوگا۔
خیال رہے کہ پاکستان کے جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیارے دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ دی ٹیلی گراف کے مطابق بنگلہ دیش، عراق، انڈونیشیا اور لیبیا جیسے ممالک نے جے ایف-17 میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور کئی جگہوں پر خریداری کے معاہدے مکمل ہو چکے ہیں یا جلد ہونے والے ہیں۔
جے ایف-17 نے بھارتی رافیل طیارے کے ساتھ حالیہ جھڑپوں میں اپنی شاندار کارکردگی دکھائی اوراسے اپنی کیٹگری میں دیگر مہنگے لڑاکا طیاروں جیسے سویڈن کے گریپن، فرانس کے رافیل، یوروفائٹر ٹائیوفون اور چین کے جے-10 سے کئی گنا کم قیمت میں سبقت حاصل ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دیگر طیارے 80 سے 107 ملین ڈالر کے ہیں جبکہ جے ایف-17 صرف 25 ملین ڈالر میں دستیاب ہے، جس کی وجہ سے دنیا کی متعدد فضائی افواج اسے خریدنے کے لیے قطار میں کھڑی ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان اور چین کے ’جوائنٹ وینچر‘ جنگی طیارے جے ایف 17 تھنڈر کی خریداری میں عالمی سطح پر دلچسپی بڑھتی نظر آ رہی ہے۔
مختلف ممالک کی جانب سے اس طیارے کی خریداری یا ممکنہ معاہدوں کی خبروں کے بعد حال ہی میں عراقی فضائیہ نے بھی پاکستان سے جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی خریداری کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
اسی تناظر میں بنگلہ دیش ایئر فورس کے سربراہ نے بھی گزشتہ ہفتے دورۂ پاکستان کے موقع پر جے ایف 17 بلاک تھری لڑاکا طیاروں کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی۔ اس وقت جے ایف 17 تھنڈر آذربائیجان، نائیجریا اور میانمار کی فضائیہ کے زیرِ استعمال ہے۔
جے ایف 17 تھنڈر ایک جدید اور ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے جسے پاکستان ایرو ناٹیکل کمپلیکس کامرہ اور چین کی چینگڈو ایئرکرافٹ انڈسٹری کارپوریشن نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ اس کی پیداوار میں پاکستان کا حصہ 58 فیصد جبکہ چین کا 42 فیصد ہے۔ یہ طیارہ فضا سے فضا، فضا سے زمین اور سمندری اہداف کو نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور جدید جاسوسی و الیکٹرانک وارفیئر نظام سے لیس ہے۔
جے ایف 17 ہر موسم میں مؤثر کارکردگی، کم وزن اور مختلف بلندیوں پر پرواز کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کا جدید ترین بلاک تھری ورژن، جسے 4.5 جنریشن لڑاکا طیارہ قرار دیا جاتا ہے، اے ای ایس اے ریڈار سے لیس ہے جو بیک وقت متعدد اہداف کو ٹریک کرنے اور طویل فاصلے تک نگرانی کی صلاحیت فراہم کرتا ہے، جب کہ یہ حدِ نظر سے باہر مار کرنے والے جدید میزائل فائر کرنے کی بھی اہلیت رکھتا ہے۔













