’کیا آپ مرگئے‘: اکیلے رہنے والوں کے لیے ایپ نے سنسنی پھیلا دی
چین میں اکیلے رہنے والے افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ ایک نیا سماجی خوف بھی جنم لے رہا ہے، اگر کوئی تنہا رہنے والا شخص مر جائے تو کیا اسے بروقت کوئی جان پائے گا؟ اسی خدشے نے ایک غیر معمولی مگر مقبول موبائل ایپ کو جنم دیا ہے جس نے حالیہ دنوں میں چین میں غیر متوقع شہرت حاصل کرلی ہے۔
چین میں اکیلے رہنے والے افراد کی حفاظت کے لیے بنائی گئی ایک موبائل ایپ ان دنوں غیر معمولی طور پر مقبول ہو گئی ہے۔ ’کیا آپ مرگئے؟‘ نامی یہ ایپ، جسے چینی زبان میں ’سائلمی‘ کہا جاتا ہے، ایپل ایپ اسٹور کی پیڈ ایپس کی فہرست میں سرفہرست آ چکی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق اس ایپ کو جنریشن زی سے تعلق رکھنے والے تین نوجوانوں نے تیار کیا ہے، جن کا مقصد اکیلے رہنے والے افراد میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کے احساس کو کم کرنا ہے۔
ایپ کا استعمال نہایت سادہ ہے۔ صارف کو ہر دو دن بعد ایپ میں جا کر اپنی خیریت کی تصدیق کرنا ہوتی ہے۔ اگر کوئی صارف مسلسل دو دن تک چیک اِن نہ کرے تو ایپ خودکار طور پر پہلے سے منتخب کردہ ایمرجنسی رابطے کو ای میل یا نوٹیفکیشن بھیج دیتی ہے۔ اس ایپ کے لیے لاگ اِن یا ذاتی معلومات فراہم کرنے کی ضرورت نہیں اور اس کا انٹرفیس بھی بہت آسان رکھا گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ ایسی ایپس عموماً بزرگ افراد کے لیے بنائی جاتی ہیں، مگر اس ایپ کی مقبولیت کا اصل سبب نوجوان شہری طبقہ بنا ہے۔ خاص طور پر وہ افراد جو بڑے شہروں میں ملازمت یا تعلیم کے لیے خاندان سے دور اکیلے رہتے ہیں۔
چین میں اس وقت اندازاً 12 کروڑ 50 لاکھ افراد تنہا زندگی گزار رہے ہیں، جس کے باعث ایسی ٹیکنالوجی کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ ایپ چین کے علاوہ امریکا، سنگاپور، ہانگ کانگ، آسٹریلیا اور اسپین جیسے ممالک میں بھی مقبول ہو رہی ہے، جہاں چینی شہری بڑی تعداد میں مقیم ہیں۔
ماہرین کے مطابق چین میں اکیلے رہنے کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اندازہ ہے کہ 2030 تک ملک میں اکیلے افراد پر مشتمل گھروں کی تعداد 20 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ بیجنگ، شنگھائی اور شینزین جیسے بڑے شہروں میں نوجوان بہتر روزگار اور آزاد طرزِ زندگی کے لیے اکیلے رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
اس طرزِ زندگی کے ساتھ تنہائی، ذہنی دباؤ اور سلامتی کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
حالیہ برسوں میں ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں افراد اپنی رہائش گاہوں میں وفات پا گئے اور کئی دنوں یا ہفتوں بعد ان کا پتا چلا۔ انہی واقعات نے عوامی سطح پر تشویش کو بڑھایا اور ٹیکنالوجی پر مبنی حل کی راہ ہموار کی۔
رائٹرز کے مطابق، ایپ کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافے کے بعد کمپنی کو پہلی بار سبسکرپشن فیس متعارف کرانی پڑی تاکہ بڑھتے ہوئے آپریٹنگ اخراجات پورے کیے جا سکیں۔
اس پہلو سے یہ ایپ محض سماجی تجربہ نہیں رہی بلکہ ایک باقاعدہ کاروباری ماڈل کی طرف بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ لہٰذا ایپ بنانے والی کمپنی سائلمی نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ وہ ایپ کے لیے آٹھ یوان (تقریباً 1.15 امریکی ڈالر) کی فیس متعارف کروا رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر صارفین اس ایپ کے حق میں اپنے جذبات کھل کر بیان کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ اسے تنہا رہنے والوں، ذہنی دباؤ کا شکار افراد، یا سماجی طور پر کمزور طبقات کے لیے ایک ضروری سہارا قرار دے رہے ہیں۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ یہ ایپ صرف موت کے خوف کا اظہار نہیں بلکہ اس خواہش کی علامت ہے کہ کوئی ہو جو کم از کم یہ جان لے کہ ہم موجود ہیں۔
اس کے ساتھ ہی ایپ کے نام نے بھی بحث کو جنم دیا ہے۔ بعض افراد کے نزدیک اس کا براہِ راست اور سخت نام یا خوف پیدا کرتا ہے لہٰذا اس کا نام تبدیل کیا جائے۔
جہاں نام کی تبدیلی کا مطالبہ ہے وہیں چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خصوصاً ویبو پر، کئی صارفین نے ایپ بنانے والی کمپنی سے مطالبہ کیا کہ وہ ایپ کا نام تبدیل نہ کرے۔ ان کے نزدیک موجودہ نام اپنی سختی کے باوجود حقیقت پسندانہ اور توجہ کھینچنے والا ہے۔ تاہم کچھ صارفین نے نسبتاً نرم متبادل نام بھی تجویز کیے، جیسے ’’کیا آپ زندہ ہیں؟‘‘، ’’کیا آپ آن لائن ہیں؟‘‘ یا ’’کیا آپ موجود ہیں؟‘‘
ایک صارف نے اپنی رائے کا اظہار کچھ یوں کیا ہے کہ ممکن ہے کچھ قدامت پسند افراد اس نام کو قبول نہ کر سکیں، لیکن حفاظتی نقطۂ نظر سے یہ ایپ نہایت مفید ہے۔ صارف کا کہنا ہے کہ یہ سہولت خاص طور پر غیر شادی شدہ اور تنہا زندگی گزارنے والے افراد کو ذہنی اطمینان فراہم کرتی ہے اور انہیں اپنی روزمرہ زندگی زیادہ سکون سے گزارنے کا احساس دلاتی ہے۔
















