پاکستان، انڈونیشیا میں دفاعی معاہدے پر بات چیت: جے ایف 17 اور ڈرونز خریدنے کا امکان
آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی کے بعد دنیا بھر کی نظریں پاکستان کے جدید عسکری سازوسامان پر مرکوز ہو گئی ہیں۔ انڈونیشیا نے پاکستانی ساختہ جنگی طیاروں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے، جس کے تناظر میں دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون اور ممکنہ معاہدوں پر بات چیت جاری ہے، جکارتہ کی حکومت کی جانب سے 40 جے ایف-17 تھنڈر اور ڈرونز خریدے جانے کا امکان ہے۔
انڈونیشیا کے وزیر دفاع سجا فری سجامسودین نے پیر کو اسلام آباد میں پاکستانی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی جس میں لڑاکا طیاروں اور مسلح ڈرونز کی ممکنہ فروخت سمیت ایک بڑے دفاعی معاہدے پر بات چیت کی گئی۔
اس ملاقات سے متعلق معلومات رکھنے والے تین سکیورٹی حکام نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ خریداری معاہدے کے لیے ہونے والے مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں۔
جکارتہ اور اسلام آباد کے درمیان یہ بات چیت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان کی دفاعی صنعت کئی ملکوں کے ساتھ لڑاکا طیاروں اور اسلحے کی خرید و فروخت کے مذاکرات میں تیزی لا رہی ہے، جن میں بنگلہ دیش، لیبیا اور سوڈان کے ساتھ جاری بات چیت بھی شامل ہے۔
پاکستان خطے میں ایک نمایاں دفاعی سپلائر کے طور پر اپنا کردار مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ادھر انڈونیشیا کی وزارت دفاع نے وزیر دفاع سجا فری سجامسودین اور پاکستان کے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کے درمیان ملاقات کی تصدیق کی ہے۔
جکارتہ میں وزارت کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ریکو ریکارڈو سیریعت نے رائٹرز کو بتایا کہ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان عمومی دفاعی تعاون، سٹریٹجک ڈائیلاگ، دفاعی اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط کرنے اور طویل المدتی باہمی مفاد کی بنیاد پر مختلف شعبوں میں تعاون کے مواقع پر گفتگو ہوئی۔
ایک ذرائع نے بتایا کہ بات چیت کا مرکزی نکتہ جے ایف 17 لڑاکا طیاروں اور ان مسلح ڈرونز کی ممکنہ فروخت تھی جو نگرانی اور اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دیگر دو ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات خاصے آگے بڑھ چکے ہیں اور ان میں 40 سے زائد جے ایف 17 طیاروں کی خریداری شامل ہے۔
ذرائع نے کہا کہ انڈونیشیا کو پاکستان کے شاہپر ڈرونز میں بھی دلچسپی ہے تاہم انہوں نے ان طیاروں کی ترسیل کے شیڈول یا معاہدے کی مدت کے حوالے سے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔
دفاعی ذرائع کے مطابق پاکستان جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کے ساتھ ساتھ ایئر ڈیفنس نظام، تربیتی پروگرام اور انڈونیشین ایئر فورس کے جونیئر، مڈ لیول اور سینیئر افسران کے لیے انجینئرنگ تربیت کی فراہمی پر بھی بات چیت کر رہا ہے۔
فیلڈ مارشل سے انڈونیشیا کے وزیرِ دفاع کی ملاقات
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ( آئی ایس پی آر) کے مطابق انڈونیشیا کے وزیرِ دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) سجا فری سجامسودین نے پیر کو جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی ہے، ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، خطے اور عالمی سطح پر بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورت حال اور دو طرفہ دفاعی تعاون بڑھانے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دوطرفہ دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات کا جائزہ لیا اور ادارہ جاتی روابط، تربیتی تعاون اور دفاعی صنعت میں شراکت داری کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
انڈونیشیا کے وزیرِ دفاع نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان مسلح افواج کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے دفاع کے مختلف شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید وسعت دینے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔
اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کی جانب سے انڈونیشیا کے ساتھ مضبوط، دیرپا اور باہمی احترام پر مبنی دفاعی تعلقات کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ دونوں ممالک مشترکہ اقدار اور ہم آہنگ اسٹریٹجک مفادات کے تحت تعاون کو مزید آگے بڑھائیں گے۔
واضح رہے کہ انڈونیشیا اپنی پرانی فضائی بیڑے کی جگہ جدید طیارے شامل کرنے کے عمل میں مصروف ہے اور حالیہ برسوں میں فرانس، ترکی، چین اور امریکا سے جنگی طیاروں کی خریداری پر بھی غور کرچکا ہے۔
دوسری جانب، پاکستان کی دفاعی صنعت میں عالمی سطح پر دلچسپی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خصوصاً جے ایف 17 طیاروں کی کارکردگی کے بعد پاکستان آذربائیجان، لیبیا اور دیگر ممالک کے ساتھ بھی دفاعی معاہدوں پر بات چیت کر رہا ہے۔
















