کراچی: ڈیفنس کے فلیٹ سے زنجیروں میں جکڑی خاتون بازیاب

مرکزی ملزم لطیف اور اس کے ساتھی امان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں: پولیس
اپ ڈیٹ 11 جنوری 2026 02:27pm

کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز فائیو میں ایک فلیٹ سے زنجیروں میں جکڑی ہوئی خاتون کو پولیس نے علاقہ مکینوں کی اطلاع پر بازیاب کرا لیا۔

پولیس کے مطابق بازیاب کرائی گئی خاتون شیریں جناح کالونی کی رہائشی ہیں اور انہیں عمارت کی تیسری منزل پر واقع ایک کمرے میں زنجیروں سے باندھ کر رکھا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق، ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ خاتون کے سابق شوہر نے بچوں کے خرچ کے معاملے پر بات کرنے کے بہانے انہیں گھر بلایا اور پھر اپنے ایک ساتھی کی مدد سے انہیں زنجیروں سے باندھ دیا، جس کے بعد دونوں موقع سے فرار ہو گئے۔

متاثرہ خاتون نے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ ان کے تین بچے ہیں اور شوہر سے علیحدگی کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔

ان کے مطابق بچوں کی کفالت کا مسئلہ دونوں فریقین نے عدالت سے باہر طے کیا تھا۔

خاتون کا کہنا ہے کہ علیحدگی کے باوجود سابق شوہر نے دوبارہ رابطہ کیا اور مالی معاملات کے حل کی بات کرتے ہوئے ملاقات کے لیے بلایا، جہاں اسے قید کر دیا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق پڑوسیوں نے مشکوک حالات دیکھ کر پولیس کو آگاہ کیا تھا۔

اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم موقع پر پہنچی اور فلیٹ میں داخل ہو کر خاتون کو آزاد کرایا۔ اس کے بعد خاتون کی مدعیت میں مقدمہ درخشاں تھانے میں درج کر لیا گیا ہے، جس میں سابق شوہر اور اس کے ایک ساتھی پر اغوا، غیر قانونی حراست اور تشدد کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم لطیف اور اس کے ساتھی امان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

مقدمے کے متن کے مطابق خاتون نے بیان دیا ہے کہ اس کی شادی تقریباً دس سال قبل محمد لطیف نامی شخص سے ہوئی تھی اور ایک سال قبل ان دونوں کے درمیان طلاق ہو چکی تھی۔ خاتون کے مطابق واقعے والے روز وہ اپنے گھر پر موجود تھی کہ سابق شوہر لطیف کی کال آئی، جس میں اس نے بدر کمرشل آنے کو کہا اور بچوں کے خرچے سے متعلق بات کرنے کا بتایا۔

خاتون نے بیان میں بتایا کہ جب وہ مقررہ فلیٹ پر پہنچی تو وہاں محمد لطیف کے ساتھ امان شہزاد نامی شخص بھی موجود تھا۔

مقدمے کے مطابق دونوں افراد نے مل کر خاتون کو زنجیروں سے باندھ دیا اور ایک کمرے میں قید کر دیا۔

خاتون کا کہنا ہے کہ اس دوران امان شہزاد نے اس پر تشدد بھی کیا اور تھپڑ مارے۔ شام کے وقت دونوں ملزمان فلیٹ کو تالا لگا کر فرار ہو گئے اور خاتون کو اندر ہی قید چھوڑ دیا۔

خاتون کے مطابق وہ کسی طرح خود کو گھسیٹتے ہوئے فلیٹ کی کھڑکی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی اور مدد کے لیے شور مچایا۔ اس کی آواز سن کر ایک پڑوسی نے ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دی۔ پولیس موقع پر پہنچی، فلیٹ کا تالا توڑا اور خاتون کو زنجیروں سے آزاد کروا لیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بازیاب خاتون کا تفصیلی بیان ریکارڈ کر لیا گیا ہے اور اس کی درخواست پر محمد لطیف اور امان شہزاد کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ واقعے کی تفتیش سینٹرلائزڈ انویسٹی گیشن سیل درخشاں کے حوالے کر دی گئی ہے، جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

karachi

Defence Phase 5

Woman Kidnapped