کراچی: ورلڈ بینک نے ’کے فور‘ اور ’ریڈلائن‘ منصوبوں پر اعتراض اُٹھا دیا
کراچی کے مصروف ترین یونیورسٹی روڈ سے گزرنے والے شہریوں کے لیے بری خبر سامنے آ گئی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے ورلڈ بینک نے کے فور اور ریڈ لائن منصوبوں میں حفاظتی اقدامات کی کمی اور ماہرین کی عدم موجودگی پر سخت اعتراضات اٹھاتے ہوئے کام روک دیا ہے، جس کے باعث دونوں منصوبے تاخیر اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کراچی کا ریڈ لائن منصوبہ شہریوں کے لیے ایک ایسی ریڈ لائن بن چکا ہے جسے عبور کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ یونیورسٹی روڈ پہلے ہی ٹریفک اور دیگر مسائل کا شکار تھا، تاہم جو تھوڑا بہت راستہ دستیاب تھا اسے بلاک کر کے کے فور منصوبے پر کام شروع کیا گیا۔
منصوبے کے تحت اردو یونیورسٹی سے حسن اسکوائر تک 2.7 کلومیٹر کے حصے پر 96 اور 72 انچ قطر کی پائپ لائنیں بچھائی جانی تھیں۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پائپ لائن بچھانے کے لیے 30 دسمبر کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی، تاہم مقررہ مدت گزرنے کے باوجود صرف 300 میٹر پر 96 انچ کی لائن ہی بچھائی جا سکی، جبکہ 72 انچ کی پائپ لائن کا کام تاحال شروع ہی نہیں ہو سکا۔
رپورٹ کے مطابق منصوبے کے آغاز پر تعینات ماحولیاتی ماہر بھی کام شروع ہوتے ہی ملازمت چھوڑ کر چلے گئے۔ سڑک بند کرنے کی ہدایات کے باوجود بہتے پانی کے درمیان گاڑیاں آتی جاتی رہیں، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔
عالمی بینک کی ٹیم نے 9 نومبر کو منصوبے کی سائٹ کا دورہ کیا، جہاں حفاظتی انتظامات کی کمی اور ماہرین کی عدم موجودگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ ان تحفظات کے بعد بالآخر 10 دسمبر کو ورلڈ بینک نے منصوبے سے ہاتھ اٹھا لیا۔
آج نیوز نے معاملے پر سرکاری افسران سے رابطے کی کوشش کی، تاہم کسی نے کال ریسیو نہیں کی۔
پرائیویٹ کنسلٹنٹ نے روایتی ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عالمی بینک کے اعتراضات دور کر دیے گئے ہیں اور جلد کام دوبارہ شروع ہو جائے گا۔
دوسری جانب میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بھی منصوبوں پر جلد کام شروع ہونے کا وعدہ کیا ہے۔
اگرچہ ممکن ہے کہ دو تین روز میں کام دوبارہ شروع ہو جائے، لیکن یہ منصوبے کب مکمل ہوں گے، اس کی کوئی واضح گارنٹی موجود نہیں۔ اس صورتحال میں یونیورسٹی روڈ سے گزرنا شہریوں کے لیے بدستور ایک امتحان ہی بنا رہے گا۔













