وزیراعظم کی رمضان میں عوام کے لیے سودمند پیکج تیار کرنے کی ہدایات
وزیراعظم شہباز شریف نے رمضان المبارک میں عوام کے لیے سودمند اور مؤثر پیکج تیار کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں اور سفید پوش عوام کی مالی معاونت اور سماجی آسودگی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ عوام کو امدادی رقوم کی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے فراہمی کیش لیس معیشت کے حصول کے لیے بھی سنگ میل ثابت ہوگی۔
جمعے کو وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت حکومت کے مجوزہ رمضان اور پچھلے سال رمضان پیکج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن پر جائزہ اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم نے تمام متعلقہ اداروں اور وزارتوں کی پچھلے سال رمضان پیکج کی شفافیت پر مستند آڈٹ ادارے کی طرف سے رپورٹ پر ستائش کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پچھلے سال سے وفاقی حکومت نے غریب عوام کو رمضان پیکج کی بدولت ارزاں نرخوں پر اشیائے خور و نوش کی فراہمی کے لیے شفاف نظام ترتیب دیا ہے، ملک میں کئی دہائیوں سے جاری یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے، مالی بے ضابطگیوں، بدنظمی اور غریبوں کے استحصال کا رائج نظام حکومت نے شفاف نظام میں تبدیل کر دیا۔
شہباز شریف نے تمام متعلقہ اداروں کو آنے والے رمضان کے لیے پچھلے سال سے بھی زیادہ موثر اور سود مند پیکج اور سفارشات مرتب کرنے کی خصوصی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یوٹیلٹی اسٹورز میں بدعنوانی کی وجہ سے مستحق افراد اپنے حق سے محروم تھے، غریبوں اور سفید پوش عوام کی مالی معاونت اور سماجی آسودگی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ غریب عوام کو رمضان پیکج کی امدادی رقوم کی فراہمی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ہی کی جائے تاکہ عوام کی عزت و تکریم مجروح نہ ہو۔ عوام کو امدادی رقوم کی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے فراہمی کیش لیس معیشت کے حصول کے لیے بھی سنگ میل ثابت ہوگی اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رمضان پیکج کی تقسیم میں شمولیت سے کیش لیس اکانومی کو فروغ ملے گا۔
وزیراعظم نے خصوصی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ وزارتیں اور ادارے اس بات کو یقینی بنائیں کہ امدادی رقوم میں غریب عوام کے دائرہ کار اور شمولیت کو ممکن حد تک وسیع کیا جا سکے۔ رمضان پیکج میں پچھلے سال سے بہتر اور موثر ادائیگی کے لیے عملی اقدامات پر مشتمل جامع حکمت عملی اور سفارشات جلد پیش کی جائیں، مؤثر نگرانی کے لیے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور منظم مانیٹرنگ کا نظام وضع کیا جائے۔
اجلاس میں دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ پچھلے سال رمضان پیکج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن میں عالمی شہرت یافتہ اور مستند آڈٹ فرم نے حکومتی پیکج کو موثر اور شفاف قرار دیا ۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں سوشل پروٹیکشن والٹ نظام رائج کیا جارہا ہے، جس کے تحت مستحق افراد میں مفت سمز تقسیم کی جارہی ہیں اور مارچ 2026 سے تمام امدادی رقوم اسی سم کے ذریعے ڈیجیٹلی تقسیم کی جائیں گی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت سید عمران احمد شاہ، وفاقی وزیر برائے قومی تحفظ خوراک رانا تنویر حسین ، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، چیئرمین نادرا اور چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور دیگر متعلقہ سرکاری عہدے داران نے شرکت کی۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ایک اور اجلاس میں پاکستان میں قیمتی پتھروں کی استعداد، علاقائی تقابلی جائزہ، برآمدات میں اضافے کے لیے درکار اقدامات اور قومی پالیسی فریم ورک کے خدوخال و نفاذ کی معینہ مدت کے اہداف پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کے دوران جواہرات و قیمتی پتھروں کے شعبے کی اصلاحات اور اسے بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے قومی پالیسی فریم ورک کی اصولی منظوری دے دی گئی۔
وزیرِاعظم نے رواں برس پالیسی فریم ورک میں تفویض کردہ اقدامات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جیم اسٹونز کے ذخائر کے مقابلے میں برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں، نجی کمپنیوں بالخصوص نوجوان آنٹرپرنیورز کی اس شعبے میں حوصلہ افزائی کی جائے، پاکستانی قیمتی پتھر دنیا بھر میں اپنے معیار کے حوالے سے مقبول ہیں، اسمگلنگ کے سدباب اور قانونی طریقے سے برآمد سے اربوں ڈالر زر مبادلہ کا حصول یقینی بنائیں گے۔













