ایشیز سیریز میں شکست: انگلش کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا فیصلہ
آسٹریلیا میں ایشز سیریز میں انگلینڈ کی 4-1 کی زبردست شکست کے بعد انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
انگلینڈ کرکٹ ٹیم اور اس کے مینجمنٹ کو آسٹریلیا میں 4-1 سے ہونے والی ایشز سیریز کی شکست کے بعد کارکردگی کے جائزے کے لیے بلایا گیا ہے۔
انگلینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو رچرڈ گولڈ نے کہا کہ ٹیم کی کارکردگی، کوچ بریڈن میکلم اور کرکٹ ڈائریکٹر رابس کی تیاری، منصوبہ بندی اور حکمت عملی سمیت فرداً فرداً کھلاڑیوں کی کارکردگی اور رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے گا۔
گولڈ نے جمعرات کو پانچویں ٹیسٹ میں پانچ وکٹوں سے شکست کے بعد بیان جاری کرتے ہوئے کہا، ’یہ ایشز ٹور بڑی امیدوں کے ساتھ شروع ہوا تھا، لیکن ہم اپنی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔ اگرچہ چوتھے ٹیسٹ میں میلبرن میں جیت حاصل ہوئی، مگر مجموعی طور پر ٹیم تمام حالات میں مستقل مزاج نہیں رہی۔‘
انہوں نے کہا کہ بورڈ اگلے مہینے بھارت اور سری لنکا میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کو جلد بہتر بنانے کا پُرعزم ہے۔
انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس نے کہا کہ ٹیم کی موجودہ کارکردگی ’اس سطح سے بہت نیچے ہے جس پر یہ ٹیم کھیل سکتی ہے‘۔ اسٹوکس نے کہا کہ مخالف ٹیمیں انگلینڈ کے جارحانہ ’باز بال‘ انداز کا جواب دینے میں کامیاب ہو گئی ہیں، جو روایتی ٹیسٹ کرکٹ سے بہت مختلف ہے۔
انہوں نے کہا کہ’ ہم اب ایسے ٹیموں کے خلاف کھیل رہے ہیں جو ہمارے طرزِ کھیل کے جوابات جان چکی ہیں۔ پہلے چند سالوں میں ٹیمیں ہمارے انداز کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہیں، لیکن سیریز کے دوران کئی مواقع پر ہم نے کھیل کی برتری خود مخالف ٹیم کو دے دی۔‘
میکلم، جو انگلینڈ کے جارحانہ بیٹنگ انداز کے معمار ہیں، نے کہا کہ وہ معمولی تبدیلیوں کے لیے تیار ہیں لیکن مکمل تبدیلی کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا، ”آپ کو اپنے طریقوں پر یقین ہونا چاہیے۔ ترقی اور ایجادات کے خلاف نہیں ہیں، لیکن اپنی حکمت عملی پر اعتماد ہونا ضروری ہے۔“
اسپلاننگ کے مطابق، آسٹریلیا نے پرتھ، برسبین اور ایڈیلیڈ میں جیت کے ساتھ ایشز اپنے نام کر لیے، جبکہ انگلینڈ کی میلبرن میں جیت نے سیریز 3-1 بنا دی تھی۔ انگلینڈ کو اس دورے کے دوران جوفرا آرچر اور مارک ووڈ کے زخمی ہونے، کپتان بین اسٹوکس پر زیادہ بوجھ اور دباؤ میں بیٹنگ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹیم کی فیلڈنگ بھی مسائل کا شکار رہی، سیریز میں 17 کیچز گرنے سے ٹیم کو سیکڑوں رنز کا نقصان ہوا۔














