صدر ٹرمپ وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماچاڈو سے ’ہیلو‘ کہنے کے منتظر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا ہے کہ وینیزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچاڈو اگلے ہفتے واشنگٹن کا دورہ کریں گی، اور وہ ان سے ملاقات کے منتظر ہیں۔ یہ ملاقات دونوں کے درمیان پہلی بار ہوگی، اور اس کی سیاسی اہمیت خطے کے مستقبل کے حوالے سے کافی نمایاں سمجھی جا رہی ہے۔
ٹرمپ نے فوکس نیوز کے پروگرام ہینیٹی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ماچاڈو سے ”ہیلو“ کہنے کے لیے پرجوش ہیں۔ ماچاڈو نے اس سے قبل بتایا تھا کہ انہوں نے اکتوبر میں نوبیل امن انعام حاصل کرنے کے بعد ٹرمپ سے کوئی رابطہ نہیں کیا، اور ان کی آمد امریکی سیاسی منظرنامے میں نئے امکانات کھول سکتی ہے۔
تاہم، صدرٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ وینیزویلا کی موجودہ سیاسی صورتِ حال اتنی پیچیدہ ہے کہ اس میں فوری طور پر انتخابات کرانا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کو پہلے دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے اور ملک کی سیاسی اور معاشی بنیادیں اتنی کمزور ہیں کہ ”فی الحال وہ انتخابات کرنے کے قابل نہیں ہے۔“
اقتصادی حوالے سے، وینیزویلا کی تیل کی صنعت امریکی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ جمعے کو وائٹ ہاؤس میں تیل کمپنیوں کے حکام سے ملاقات کریں گے، اور یہ کمپنیاں وینیزویلا کے تیل کے انفراسٹرکچر کی بحالی میں اہم کردار ادا کریں گی۔ امریکی صدر کے مطابق ابتدائی سرمایہ کاری تقریباً 100 ارب ڈالر ہوگی اور ملک کی تیل کی پیداوار میں قابلِ ذکر اضافہ متوقع ہے۔ یہ منصوبہ ملک کی تیل کی پیداوار کو نہ صرف بحال کرے گا بلکہ امریکا کے لیے خام تیل کی مسلسل سپلائی کو یقینی بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، ٹرمپ کی یہ حکمت عملی وینیزویلا کی داخلی سیاست میں اثر ڈالنے کے ساتھ ساتھ، عالمی توانائی مارکیٹ میں امریکی اثر و رسوخ کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے۔ دوسری جانب، اپوزیشن رہنما ماچاڈوکی واشنگٹن آمد اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر وینیزویلا کے مستقبل کی سمت پر سنجیدہ مذاکرات ہو سکتے ہیں، تاہم ملک کے اندرونی سیاسی بحران ابھی حل طلب ہے۔
مجموعی طور پر، ٹرمپ ماچاڈوملاقات نہ صرف دوطرفہ تعلقات کے لیے اہم ہے بلکہ وینیزویلا کی اقتصادی اور سیاسی بازیابی کی سمت میں بھی ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔