لانڈری سے گھریلو معاونت تک ہر کام کرنے والا ’ایل جی‘ کا اے آئی روبوٹ
کنزیومر الیکٹرانکس شو (سی ای ایس) دنیا کی سب سے بڑی اور بااثر ٹیکنالوجی نمائشوں میں سے ایک ہے، جو ہر سال جنوری کے آغاز میں امریکا کے شہر لاس ویگاس میں منعقد ہوتی ہے۔ اس عالمی ایونٹ میں دنیا بھر کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں، اسٹارٹ اپس، ماہرین اور سرمایہ کار شرکت کرتے ہیں، جہاں مستقبل کی جدید ایجادات، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، اسمارٹ ہوم سسٹمز اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے نئے رجحانات متعارف کرائے جاتے ہیں۔
اس سال بھی لاس ویگاس میں جاری کنزیومر الیکٹرانکس شو (سی ای ایس 2026) میں جہاں مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور اسمارٹ ہوم ٹیکنالوجی کے بڑے دعوے اور تیز رفتار مظاہرے دیکھنے کو مل رہے ہیں، وہیں جنوبی کوریا کی معروف الیکٹرانکس کمپنی ایل جی نے ایک نسبتاً سادہ مگر توجہ کھینچ لینے والا مظاہرہ پیش کیا۔
امریکی خبر رساں ادارے ’دی ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کی جانب سے بدھ کو شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں ایل جی کا نیا اے آئی سے لیس بائی پیڈل (انسان نما) روبوٹ ہوم اسسٹنٹ، لانڈری جیسے روزمرہ گھریلو کام انجام دیتا دکھایا گیا، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔
اس مختصر ویڈیو میں روبوٹ نہایت احتیاط اور آہستگی کے ساتھ فرش سے کپڑے اٹھاتا ہے، صوفے کے نیچے گم شدہ اشیاء تلاش کرتا ہے، واشنگ مشین اور ڈرائر میں کپڑے لوڈ اور ان لوڈ کرتا ہے، تولیے تہہ کرتا ہے اور لانڈری کو ترتیب دیتا ہے۔ اگرچہ اس کی رفتار خاصی سست ہے، مگر اس کی حرکات میں درستگی، توازن اور سینسر بیسڈ کنٹرول واضح طور پر نظر آتا ہے، جو گھریلو ماحول کے لیے ایک اہم تقاضا سمجھا جاتا ہے۔
سی ای ایس 2026 میں مجموعی طور پر اے آئی ڈیجیٹل ساتھی اور گھریلو روبوٹکس ایک نمایاں تھیم کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ بڑی ٹیک کمپنیاں اب تیز رفتار صنعتی روبوٹس کے بجائے ایسے سسٹمز پر توجہ دے رہی ہیں جو انسانوں کے ساتھ ایک ہی جگہ میں محفوظ طریقے سے کام کر سکیں۔ ایل جی کا یہ روبوٹ اسی سوچ کی نمائندگی کرتا ہے، جہاں مقصد رفتار نہیں بلکہ سیفٹی، خودمختاری اور انسانی ماحول سے مطابقت ہے۔
سوشل میڈیا پر اس روبوٹ کے ردِعمل خاصے ملے جلے رہے۔ کچھ صارفین نے مزاحیہ انداز میں اس کی سست رفتاری کا مذاق اڑایا، جبکہ بعض نے اس کا موازنہ ’ٹیسلا آپٹیمس‘ جیسے نسبتاً تیز اور طاقتور ہیومنائیڈ روبوٹس سے کیا۔ تاہم ٹیک ماہرین کے مطابق، گھریلو استعمال کے لیے بنائے گئے روبوٹس میں رفتار سے زیادہ اہم چیزدرستگی کے ساتھ اشیاء کو سنبھالنا، قابو پانا، یعنی نازک اشیاء کو نقصان پہنچائے بغیر سنبھالنے کی صلاحیت ہوتی ہے، جو فی الحال ایک بڑا تکنیکی چیلنج ہے۔

اس مظاہرے کے پیچھے کارفرما ٹیکنالوجی میں کمپیوٹر وژن، ملٹی موڈل اے آئی، فورس سینسرز، اور ریئل ٹائم موشن پلاننگ جیسے عناصر شامل ہوتے ہیں۔ لانڈری فولڈنگ جیسے کام آج بھی روبوٹکس میں ایک مشکل مسئلہ سمجھے جاتے ہیں، کیونکہ کپڑا ایک نرم اور غیر متعین شکل رکھنے والی شے ہے۔ اسی لیے ماہرین کا خیال ہے کہ اگرچہ یہ روبوٹ تجارتی طور پر فوراً دستیاب نہیں ہوگا، مگر یہ پیش رفت گھریلو روبوٹکس کے ارتقا میں ایک اہم قدم ہے۔

سی ای ایس 2026 میں اسمارٹ ہوم ٹیکنالوجی بھی تیزی سے مصنوعی ذہانت پر مبنی مربوط نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں روبوٹس، اسمارٹ ایپلائنسز اور ڈیجیٹل اسسٹنٹس آپس میں جڑے ہوں گے۔ بعض مبصرین نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ مستقبل میں ایسے روبوٹس کے لیے ریگولیٹری فریم ورک، ڈیٹا پرائیویسی، اور ممکنہ طور پر بلاک چین پر مبنی ٹریکنگ جیسے تصورات زیرِ غور آ سکتے ہیں، خاص طور پر جب روبوٹ گھریلو ڈیٹا اور روزمرہ عادات سے وابستہ ہوں۔
مجموعی طور پر، ایل جی کا یہ اے آئی روبوٹ سی ای ایس 2026 کا سب سے طاقتور یا تیز مظاہرہ نہیں، مگر یہ ایک انسان دوست اور عملی وژن پیش کرتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ گھریلو روبوٹکس کا مستقبل صرف رفتار یا طاقت میں نہیں، بلکہ اعتماد، تحفظ اور روزمرہ زندگی میں حقیقی مدد فراہم کرنے میں پوشیدہ ہے۔
















