چین اور روس ایک ہی طاقت سے خوفزدہ ہیں، وہ ہے نیا امریکا: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر جنگوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے 8 جنگیں رکوائیں لیکن نیٹو کے احمق ناروے نے مجھے نوبیل امن انعام نہیں دیا، انہوں نے نیٹو ممالک کو طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کے بغیر روس اور چین کو نیٹو کا کوئی خوف نہیں، چین اور روس تو ایک ہی چیز سے ڈرتے ہیں اور اس کا احترام کرتے ہیں۔
بدھ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر صدر ٹرمپ نے نیٹو، یوکرین جنگ، چین اور روس سے متعلق امریکی کردار پر تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی مداخلت کے باعث نیٹو ممالک نے دفاعی اخراجات بڑھائے اور امریکا نے عالمی سطح پر اہم کردار ادا کیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ نیٹو کے بیشتر ممالک ان کے اقتدار میں آنے سے قبل مجموعی قومی پیداوار کا صرف دو فیصد دفاع پر خرچ کر رہے تھے اور بیشتر ممالک اپنے واجبات ادا نہیں کر رہے تھے جب کہ امریکا زیادہ تر اخراجات برداشت کررہا تھا۔ ان کی کوششوں سے نیٹو ممالک نے دفاعی اخراجات پانچ فیصد تک بڑھائے اور اب فوری ادائیگیاں کر رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کی مداخلت کے بغیر اس وقت روس پورے یوکرین پر قابض ہو چکا ہوتا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے تنِ تنہا 8 جنگوں کا خاتمہ کیا لیکن نیٹو کے احمق ناروے نے مجھے نوبیل امن انعام نہیں دیا، کوئی بات نہیں اصل بات تو یہ ہے کہ میں نے لاکھوں زندگیاں بچائیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ امریکا کے بغیر روس اور چین کو نیٹو کا کوئی خوف نہیں اور انہیں شک ہے کہ اگر امریکا کو کبھی ضرورت پڑی تو نیٹو ممالک اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پہلے دورِ صدارت میں امریکی فوج کو دوبارہ مضبوط بنایا گیا اور یہ عمل اب بھی جاری ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ہمیشہ نیٹو کے ساتھ کھڑا رہے گا، چاہے نیٹو امریکا کے لیے ایسا نہ کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین اور روس تو ایک ہی چیز سے ڈرتے ہیں اور اس کا احترام کرتے ہیں اور وہ ڈونلڈ ٹرمپ کا نوتعمیر امریکا ہے۔
بیان کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو دوبارہ عظیم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔















