وینزویلا ہمارے کئی مخالفین کا گڑھ بن چکا ہے، مارکو روبیو
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے وینزویلا سے متعلق سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ وینزویلا اب منشیات کی سمگلنگ کا مرکز نہ رہے، جبکہ اگر خدشات دور نہ کیے گئے تو واشنگٹن کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں۔
امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ وینزویلا ہمارے کئی مخالفین کا گڑھ بن چکا ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ یہ ملک اب منشیات کی سمگلنگ کی جنت نہ رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ وینزویلا کے عوام کے لیے ایک بہتر مستقبل کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ ملک کی تیل کی صنعت اس انداز میں کام کرے کہ اس کی دولت براہِ راست عوام تک پہنچے۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ امریکہ کو یہ اقدامات کرنے کا قانونی اختیار کس بنیاد پر حاصل ہے تو مارکو روبیو نے جواب دیا کہ ہمارے پاس عدالت کے احکامات موجود ہیں، کیا عدالت قانونی اختیار نہیں رکھتی؟ اس سوال پر کہ آیا امریکہ وینزویلا کو چلا رہا ہے، امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ امریکہ اس سمت کو چلا رہا ہے جو معاملات کو آگے بڑھانے میں مدد دے۔
مارکو روبیو نے وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کو ملک کا جائز صدر تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے شخص ہیں جن کے ساتھ امریکہ کام نہیں کر سکتا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر وینزویلا امریکہ کے پناہ گزینوں اور منشیات سمگلنگ سے متعلق خدشات کو دور نہیں کرتا تو امریکہ وہ تمام آپشنز استعمال کر سکتا ہے جو مادورو کی گرفتاری سے پہلے موجود تھے۔
روبیو کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ وینزویلا جانے والے یا وہاں سے آنے والے پابندی شدہ ٹینکرز کو امریکی عدالت کے احکامات کے تحت ضبط کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس بات کو کم اہمیت نہیں دے سکتے کہ یہ اقدامات وینزویلا کے مستقبل کے لیے کتنے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ متبادل صرف یہی ہے کہ وینزویلا کی تیل کی صنعت عوام کو فائدہ پہنچائے۔















