وینزویلا کے صدر کی اہلیہ کون ہیں، انہیں کیوں گرفتار کیا گیا؟
وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو ملک میں ایک نہایت اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیت سمجھا جاتا ہے، اور اسی وجہ سے انہیں بعض حلقوں میں ’لیڈی میکبیٹھ‘ بھی کہا جاتا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق حالیہ کارروائی کے بعد مادورو اور فلوریس کو حراست میں لے کر نیویارک منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان پر منشیات سے متعلق سنگین الزامات کا سامنا ہے۔
سیلیا فلوریس 1956 میں وینیزویلا کے ایک چھوٹے قصبے میں پیدا ہوئیں۔ وکالت کی تربیت حاصل کرنے کے بعد وہ سیاست میں آئیں اور سابق صدر ہیوگو شاویز کے قریبی حلقے میں شامل رہیں۔
انہوں نے 1990 کی دہائی میں شاویز کا قانونی دفاع کیا، جس سے ان کی سیاسی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ بعد ازاں وہ پارلیمنٹ کی رکن، اس کی پہلی خاتون اسپیکر، اٹارنی جنرل اور مختلف حکومتی عہدوں پر فائز رہیں۔
فلوریس کی شہرت اس وقت مزید بڑھی جب انہوں نے سماجی پروگراموں سے متعلق ٹی وی پروگرام بھی کیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ پسِ پردہ سیاسی اثر رکھتی ہیں، جبکہ حامی انہیں ایک تجربہ کار اور مضبوط سیاسی شخصیت قرار دیتے ہیں۔ اسی کردار کی وجہ سے انہیں ’فرسٹ کومبیٹنٹ‘ یعنی ’اولین ساتھیِ جدوجہد‘ بھی کہا جاتا ہے۔
فلوریس پر اقربا پروری کے الزامات بھی لگتے رہے، جنہیں انہوں نے سیاسی پراپیگنڈا قرار دیا۔ 2015 میں ان کے دو بھانجوں کو امریکی حکام نے منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کر کے سزا سنائی، جس کے بعد خاندان پر تنقید مزید بڑھی۔ 2018 میں امریکا اور بعض دیگر ممالک نے فلوریس پر پابندیاں بھی عائد کیں۔
اب مادورو کے ساتھ انہیں امریکی عدالت میں نارکو ٹیررازم کے الزامات کا سامنا ہے۔ تاحال ان الزامات کی قانونی حیثیت پر کارروائی جاری ہے، جبکہ دونوں اپنی بے گناہی کا مؤقف دہراتے رہے ہیں۔ مزید پیش رفت آنے والے دنوں میں سامنے آنے کی توقع ہے۔














