وینزویلا کے صدر کو نیویارک لایا جارہا ہے: صدر ٹرمپ

صدر نکولس اور انکی اہلیہ نیویارک کی جانب رواں دواں ہیں: ٹرمپ کی فاکس نیوز سے گفتگو
اپ ڈیٹ 03 جنوری 2026 08:35pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا پر فضائی حملے اور فوجی آپریشن کے نتیجے میں وینزویلا کے صدر کی گرفتاری اور بیرون ملک منتقلی کی تصدیق کے بعد اب انہیں امریکا لانے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز سے گفتگو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو امریکی بحری جہاز کے ذریعے نیو یارک منتقل کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے ان دونوں نے امریکی ہیلی کاپٹر کی سواری کی، اب وہ امریکی بحری جہاز کے ذریعے نیویارک کی جانب رواں دواں ہیں۔
صدر ٹرمپ نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ دونوں نے سفر کا لطف اٹھایا ہوگا۔

اس سے قبل ری پبلکن سینیٹر مائیک لی نے بھی صدر نکولس مادورو کی امریکہ منتقلی اور حکومت کی جانب سے اُن پر فوجداری مقدمہ چلانے کا انکشاف کیا۔

ری پبلکن سینیٹر مائیک لی نے ایکس پر بیان میں کہا کہ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے انہیں بتایا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو امریکی اہلکاروں نے گرفتار کیا ہے تاکہ امریکا میں ان پر فوجداری مقدمہ چلایا جا سکے۔

ریاست یوٹاہ سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مائیک لی نے کہا ہے کہ انہوں نے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے وینزویلا میں کی گئی امریکی کارروائی سے متعلق ٹیلی فون پر گفتگو کی۔

سینیٹر مائیک لی نے مزید کہا کہ امریکی وزیرِ خارجہ نے انہیں بتایا ہے کہ اب چونکہ نکولس مادورو امریکی تحویل میں ہیں تو وہ وینزویلا میں مزید کسی کارروائی کی ضرورت نہیں۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اہلیہ سمیت گرفتار کرکے بیرون ملک منتقل کرنے کی تصدیق کی تھی۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں میں کہا کہ ’امریکہ نے وینزویلا کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر کارروائی کامیابی سے انجام دی ہے۔ اس کارروائی میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ان کی اہلیہ سمیت گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے‘۔

ٹرمپ نے مزید بتایا کہ ’یہ آپریشن امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کیا گیا ہے اور مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی‘۔

صدر ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں وینزویلا میں کارروائی کو ”شاندار“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”اس میں زبردست منصوبہ بندی شامل تھی اور ہمارے پاس نہایت ہی بہترین فوجی اور قابل لوگ تھے۔“

جب ان سے فون پر پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے اس کارروائی کے لیے کانگریس سے منظوری لی تھی اور وینزویلا کے حوالے سے آگے کا ردعمل کیا ہوگا، تو ٹرمپ نے کہا کہ وہ ان تمام سوالات کے جواب مار-اے-لاگو میں ہونے والی پریس کانفرنس میں دیں گے۔

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے اس حوالے سے سینیٹرمائیک لی سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا کہ نکولس مادورو کی امریکی اہلکاروں کی جانب سے گرفتاری کے لیے کی گئی کارروائی آرٹیکل 2 کے صدارتی اختیارات کے دائرے میں آتی ہے۔

دوسری جانب وینزویلا کی نائب صدر نے کہا ہے کہ حکومت کو صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کے موجودہ مقام کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ ریاستی نشریات پر چلائے گئے ایک آڈیو پیغام میں ڈیلسی روڈریگز نے مزید کہا کہ ”ہم فوری طور پر ان کے زندہ ہونے کا ثبوت مانگتے ہیں۔“

امریکی خبر رساں ادارے ’اسکائی نیوز’ نے وینزویلا کی اپوزیشن کے اندر موجود ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ نکولس مادورو ”ڈیل کے ذریعے ملک سے باہر گئے“۔

ہفتے کی رات وینزویلا کے دارالحکومت کراکس پر امریکہ کی جانب سے متعدد فضائی حملے کیے گئے۔ اس دوران شہر دھماکوں سے گونج اٹھا۔

امریکی خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق کراکس میں تقریباً رات دو بجے کم از کم سات دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، دھماکوں اور پروازوں کی آوازیں پندرہ منٹ تک جاری رہیں۔

اس دوران کچھ ویڈیوز بھی سامنے آئیں جن میں ہیلی کاپٹرز کو راکٹس فائر کرتے دیکھا گیا۔ دھماکوں کی آواز سن کر مختلف علاقوں میں شہری خوفزدہ ہو کر سڑکوں کی طرف دوڑتے دیکھے گئے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق، ان حملوں میں وینزویلا کی فضائیہ اور ملٹری کے بیسز کو نشانہ بنایا گیا۔

وینزویلا حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حملے ریاست میرینڈا، اراگوا اور لا گوئیرا میں بھی کیے گئے۔

اس دوران وینزویلا کے وزیر دفاع ولادیمیر پیڈرینو لوپیز کے گھر کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ دھماکے کراکس کے جنوبی علاقے میں واقع فوجی اڈے کے قریب ہوئے، دھماکوں کے بعد بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی اور آدھا شہر تاریکی میں ڈوب گیا۔

حملوں کے فوراً بعد وینزویلا کی حکومت نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی۔

وینزویلا حکومت کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ملک امریکا کی جانب سے کی جانے والی فوجی جارحیت کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔

بی بی سی کے مطابق وینیزویلا نے امریکی حملوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کارروائیاں دراصل وینزویلا کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش ہیں۔

وینزویلا کی حکومت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی حکومت کی وینزویلا کی سرزمین اور عوام کے خلاف کی جانے والی اس انتہائی سنگین فوجی جارحیت کو مسترد کرتی ہے اور اس عمل کی مذمت کرتی ہے۔

صدر مادورو نے بھی ملکی افواج کو فوری طور پر متحرک ہونے کی ہدایت دیتے ہوئے اس کارروائی کو وینزویلا کے خلاف مہلک حملہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ قومی خودمختاری اور عوامی نظم و ضبط کے تحفظ کے لیے شہریوں اور فوج کو مشترکہ طور پر تعینات کیا گیا ہے۔

explosions

Nicolás Maduro

Caracas

Venezuela’s capital

Caracas Airstrikes