ایران: مہنگائی کے خلاف مظاہرین کا سرکاری عمارت پر حملہ، سیکیورٹی اہلکار جاں بحق
ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے پانچویں روز میں داخل ہو گئے ہیں. جنوبی ایران میں مظاہرین نے ایک سرکاری عمارت پر حملہ کیا جبکہ مغربی صوبے لورستان میں نیم فوجی بسیج فورس کا ایک رضاکار جاں بحق جبکہ 13 اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔
ایران میں اتوار کے روز مہنگائی، معاشی دباؤ اور کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج آج پانچویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا نے بدھ کے روز جنوبی صوبے فارس کے شہر فاسا میں مقامی گورنری کی عمارت میں گھسنے کی کوشش کی تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت مداخلت کے باعث یہ کوشش ناکام بنا دی گئی۔
سرکاری میڈیا کے مطابق اس ہنگامہ آرائی کی قیادت کرنے والی 28 سالہ خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق مظاہروں کے دوران مغربی صوبے لورستان میں انقلابی گارڈز کی نیم فوجی بسیج فورس سے تعلق رکھنے والا 21 سالہ رضاکار بھی جاں بحق ہوا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس فورس کے قریب سمجھے جانے والے خبر رساں ادارے اسٹوڈنٹ نیوز نیٹ ورک کے مطابق لورستان کے نائب گورنر سعید پورعلی نے مظاہرین کو رضاکار کی ہلاکت کا ذمہ دار ٹھرایا ہے۔
سعید پور علی کا کہنا ہے کہ واقعے میں بسیج فورس کے مزید 13 ارکان اور پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مظاہرے معاشی دباؤ، مہنگائی اور کرنسی میں اتار چڑھاؤ کا نتیجہ ہیں اور ان مطالبات کو دانش مندی سے سنا جانا چاہیے، تاہم عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے مطالبات کو مفاد پرست عناصر کے ہاتھوں یرغمال نہ بننے دیں۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن میں سات افراد کو گرفتار کیا ہے، جس میں پانچ افراد سابقہ بادشاہی نظام کے حامی جبکہ دو افراد کو یورپ سے آپریٹ ہونے والے حکومت مخالف گروہوں سے وابستہ قرار دیا گیا ہے۔
سرکاری ٹی وی نے یہ بھی بتایا کہ ایک اور کارروائی میں 100 اسمگل شدہ پستول برآمد کیے گئے ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
عرب میڈیا کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک خطاب میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ حالات میں احتجاج کے بجائے یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت معاشی صورت حال بہتر بنانے اور شہریوں کی قوتِ خرید میں اضافے کے لیے آئندہ چند گھنٹوں کے اندر نئے فیصلے کر سکتی ہے۔
ایرانی صدر نے حالیہ مظاہروں کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہونے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت دشمن کی زیادہ تر امیدیں ہمیں معاشی دباؤ کے ذریعے گرانے پر مرکوز ہیں۔ کسی قوم کو بموں، لڑاکا طیاروں یا میزائلوں سے تابع نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا دشمن اگر ہمیں واقعی شکست دینا چاہتا ہے تو اسے میدان میں آ کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ اور اگر ہم ثابت قدم رہے اور مل کر کام کرتے رہے تو ان کے لیے ایران کو جھکانا نا ممکن ہو جائے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مظاہرین سے مذاکرات کا اشارہ دیا تھا تاہم وہ یہ اعتراف بھی کر چکے ہیں کہ ایرانی کرنسی کی تیزی سے گراوٹ روکنے کے لیے فوری حل محدود ہیں۔
واضح رہے کہ ایران کی معیشت کئی برسوں سے امریکی اور بین الاقوامی پابندیوں کے باعث دباؤ کا شکار ہے، جبکہ حالیہ مہینوں میں ایرانی کرنسی کی قدر میں مزید کمی آئی ہے۔ اِس وقت ایک امریکی ڈالر کی قیمت تقریباً 14 لاکھ ایرانی ریال تک پہنچ چکی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دسمبر میں مہنگائی کی شرح سالانہ بنیاد پر 52 فیصد رہی، جس کے باعث بنیادی ضروریات عوام کی ایک بڑی تعداد کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔
ان مظاہروں کو 2022 کے بعد ایران کا سب سے بڑا احتجاج قرار دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ اُس وقت پولیس حراست میں 22 سالہ مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ملک گیر مظاہرے شروع ہوئے تھے تاہم موجودہ احتجاج تاحال پورے ملک میں نہیں پھیلا اور نہ ہی ان کی شدت مہسا امینی کے واقعے کے بعد ہونے والے مظاہروں جیسی ہے۔















