غزہ میں تباہی کا نیا طریقہ، اسرائیلی ’ٹرک بموں‘ نے محلّوں کو ملبے میں کیسے بدلا

ڈرون فوٹیج اور سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی گلیاں اور پورے بلاک مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔
اپ ڈیٹ 01 جنوری 2026 10:12am
السٹریشن بزریعہ رائٹرز
السٹریشن بزریعہ رائٹرز

غزہ میں جنگ بندی سے پہلے کے ہفتوں کے دوران اسرائیلی فوج نے ایک ایسے ہتھیار کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا جس نے شہر کے کئی علاقوں کی شکل بدل کر رکھ دی۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی تحقیق کے مطابق اسرائیل نے پرانے ایم 113 آرمڈ پرسنل کیریئرز کو بارودی مواد سے بھر کر بموں میں تبدیل کیا، جن میں ایک سے تین ٹن تک دھماکہ خیز مواد موجود تھا۔

ان گاڑیوں کو غزہ شہر کے گنجان آباد علاقوں میں استعمال کیا گیا، جہاں اِن کے دھماکوں، فضائی حملوں اور بکتر بند بلڈوزروں نے مل کر وسیع پیمانے پر عمارتوں کو زمین بوس کر دیا۔

جب اسرائیلی فوج غزہ شہر کے وسط کی جانب بڑھ رہی تھی تو تل الہویٰ اور صبرا جیسے محلوں میں یہ طاقتور ٹرک بم دھماکے کیے گئے۔

ڈرون فوٹیج اور سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی گلیاں اور پورے بلاک مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔

بعض مقامات پر مکینوں کو پہلے انتباہ دیا گیا اور لوگ علاقہ چھوڑ گئے، تاہم مقامی رہائشیوں اور غزہ حکام کے مطابق کئی واقعات میں لوگوں کو بروقت وارننگ نہیں ملی۔

تل الہویٰ کے علاقے میں دولت اسٹریٹ پر واقع ہشام محمد بدوی کا پانچ منزلہ گھر اس کی ایک مثال ہے۔

 ہشام محمد بدوی  ملبہ بن چکے اپنے گھر کے پاس بیٹھے ہیں (تصویر: رائٹرز)
ہشام محمد بدوی ملبہ بن چکے اپنے گھر کے پاس بیٹھے ہیں (تصویر: رائٹرز)

بدوی کے مطابق ان کا گھر جنگ کے آغاز میں ایک فضائی حملے سے جزوی طور پر متاثر ہوا تھا، لیکن 14 ستمبر کو ایک آرمڈ گاڑی میں ہونے والے دھماکے نے اسے مکمل طور پر مٹا دیا۔

بدوی نے بتایا کہ وہ اس وقت چند سو میٹر کے فاصلے پر تھے اور تقریباً پانچ منٹ کے وقفے سے کم از کم پانچ زور دار دھماکوں کی آوازیں سنیں۔

بدوی کے مطابق انہیں انخلا کی کوئی وارننگ نہیں ملی اور ان کے خاندان کے 41 افراد بمشکل جان بچا سکے۔

آج یہ خاندان مختلف رشتہ داروں کے گھروں میں رہنے پر مجبور ہے جبکہ بدوی خود اپنے تباہ شدہ گھر کے قریب ایک خیمے میں رہ رہے ہیں۔

رائٹرز نے نومبر میں جب اس علاقے کا دورہ کیا تو ملبے کے درمیان کم از کم ایک تباہ شدہ آرمڈ گاڑی کی باقیات بکھری ہوئی تھیں۔

بدوی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ہی محلے کو پہچان نہیں پا رہے تھے۔

اس تحقیق کے لیے رائٹرز نے اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع، فوجی ماہرین، غزہ حکام اور مقامی رہائشیوں سے بات کی۔

سات رہائشیوں نے بتایا کہ ان کے یا ان کے پڑوسیوں کے گھروں کو زلزلوں جیسے دھماکوں سے شدید نقصان پہنچا۔

فوجی ماہرین کے مطابق ان گاڑیوں میں بھرے گئے دھماکہ خیز مواد کی مقدار اتنی زیادہ تھی کہ اس کا اثر اسرائیل کے بڑے فضائی بموں جتنا تھا۔

دھماکے کے وقت گاڑی کا دھاتی ڈھانچہ پھٹ جاتا ہے اور اس کے ٹکڑے سیکڑوں میٹر تک جا گرتے ہیں، جس سے قریبی عمارتوں کی دیواریں، ستون اور چھتیں منہدم ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے دھماکے گنجان شہری علاقوں میں غیر معمولی اور انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

تاہم، اسرائیلی فوج نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ جنگ کے قوانین کی پابند ہے اور انجینئرنگ آلات صرف فوجی ضرورت کے تحت استعمال کیے گئے۔

فوج کا کہنا ہے کہ فیصلے عسکری ضرورت، امتیاز اور تناسب کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔

دوسری جانب حماس کے ترجمان حاذم قاسم نے کہا کہ بکتر بند گاڑیوں کے ذریعے گھروں کی مسماری کا مقصد شہری آبادی کو بڑے پیمانے پر بے گھر کرنا ہے۔ اسرائیل نے حاذم کے اس الزام کی تردید کی ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ حکمت عملی اس وقت زیادہ استعمال ہوئی جب امریکا نے بھاری فضائی بموں اور بلڈوزروں کی فراہمی محدود کی۔

ایک ریٹائرڈ اسرائیلی بریگیڈیئر جنرل نے اسے غزہ جنگ کی ایک نئی ایجاد قرار دیا۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ خالی کرائے گئے علاقوں میں حماس کی جانب سے مبینہ بارودی سرنگوں کے باعث عمارتوں کو دھماکوں سے اڑایا گیا، تاہم حماس نے اس دعوے کو مسترد کیا ہے۔

سیٹلائٹ تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف چھ ہفتوں کے دوران صبرا، تل الہویٰ اور اطراف کے علاقوں میں تقریباً 650 عمارتیں تباہ ہوئیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق مجموعی طور پر غزہ کی 81 فیصد عمارتیں جنگ کے دوران متاثر ہوئیں یا تباہ ہو گئیں۔

انسانی حقوق کے ماہرین اور اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں میں اس پیمانے پر دھماکہ خیز مواد کا استعمال بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں سے متصادم ہو سکتا ہے اور اگر یہ فوجی ضرورت کے بغیر ہوا ہو تو اسے جنگی جرم قرار دیا جا سکتا ہے۔

کبھی زندگی اور سرگرمیوں سے بھرپور رہنے والے تل الہویٰ اور صبرا کے علاقے، جہاں بیکریاں، بازار، مساجد اور تعلیمی ادارے موجود تھے، اب بڑی حد تک ملبے میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

بدوی جیسے ہزاروں خاندان آج بھی اس سوال کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں کہ ان کے گھر کیوں اور کس بنیاد پر تباہ کیے گئے، اور آیا وہ کبھی دوبارہ اپنے محلوں میں لوٹ سکیں گے یا نہیں۔

Israel

Gaza Israel War

Car Bomb Isreal

M113 Armoured Personnel Carriers