خلا باز نیا سال 16 بار کیوں مناتے ہیں؟
دنیا بھر میں 2026 کا آغاز خوشیوں، آتش بازی اور دعاؤں کے ساتھ ہو چکا ہے، تاہم زمین سے سینکڑوں کلومیٹر اوپر خلا میں موجود خلا بازوں کے لیے نیا سال ایک منفرد انداز میں آیا۔
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر موجود خلا بازوں نے نیا سال ایک نہیں بلکہ 16 مرتبہ آتے دیکھا۔ اس کی وجہ خلائی اسٹیشن کی زمین کے گرد غیر معمولی رفتار سے گردش ہے۔
آئی ایس ایس تقریباً 400 کلومیٹر کی بلندی پر زمین کے گرد گردش کر رہا ہے اور اس کی رفتار لگ بھگ 28 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ خلائی اسٹیشن ہر 90 منٹ میں زمین کا ایک چکر مکمل کرتا ہے، جس کے باعث یہ 24 گھنٹوں میں تقریباً 16 مرتبہ زمین کے مختلف حصوں کے اوپر سے گزرتا ہے۔
اسی تیز رفتار گردش کی وجہ سے خلا باز روزانہ 16 سورج طلوع اور 16 سورج غروب ہوتے دیکھتے ہیں۔ جب زمین کے مختلف ٹائم زونز میں رات بارہ بجتی ہے، تو خلائی اسٹیشن بار بار ان علاقوں کے اوپر سے گزرتا ہے، یوں خلا باز نئے سال کی آمد کا منظر بار بار دیکھتے ہیں۔
خلائی اسٹیشن پر موجود خلا باز مختلف ممالک کی نمائندگی کرتے ہیں، جن میں امریکا، جاپان اور روس شامل ہیں۔ یہ عالمی تعاون کی ایک نمایاں مثال ہے، جہاں مختلف قومیتوں کے سائنس دان اور خلا باز مل کر سائنسی تحقیق انجام دیتے ہیں۔
اگرچہ خلا باز عملی طور پر 16 بار جشن نہیں مناتے، کیونکہ ان کا روزمرہ نظام الاوقات کوآرڈی نیٹڈ یونیورسل ٹائم (یوٹی سی) کے مطابق ہوتا ہے، تاہم وہ اس موقع پر ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہیں اور بعض اوقات اپنے اہلِ خانہ سے ویڈیو رابطہ بھی کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق خلائی اسٹیشن پر تیزی سے بدلتے دن اور رات انسانی جسم کے لیے ایک چیلنج ہوتے ہیں، اسی لیے خلا بازوں کے لیے خاص نیند کے اوقات، روشنی کا انتظام اور باقاعدہ ورزش لازمی ہوتی ہے تاکہ ان کی صحت برقرار رہے۔
نئے سال کے موقع پر خلا سے زمین کو دیکھنا ایک نایاب تجربہ ہے، جہاں جگمگاتے شہر، آتش بازی اور زمین کی خوبصورتی ایک مختلف زاویے سے نظر آتی ہے۔ یہ منظر انسان کو یاد دلاتا ہے کہ زمین واقعی ایک مشترکہ گھر ہے۔
















