سہیل آفریدی ریڈ لائن کراس کرنا چاہتے ہیں، اسلام آباد کی طرف بڑھے تو کارروائی ہوگی، رانا ثنا اللہ

ملٹری کورٹ میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف 9 مئی کیس کا ٹرائل ہوسکتا ہے، مشیروزیراعظم برائے سیاسی امور
اپ ڈیٹ 20 دسمبر 2025 08:25am

مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ان کے ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی ریڈ لائن کراس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ملک میں افراتفری اور انارکی کی صورتحال پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر سہیل آفریدی اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

رانا ثنا اللہ نے گفتگو کے دوران یہ بھی کہا کہ پاکستان نے ایک دو مطلوب افراد کو گرفتار کر کے امریکا کے حوالے کیا، جسے انہوں نے گڈ ورک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے پاکستان کے مثبت تشخص کو تقویت ملی اور عالمی سطح پر ملک کا چہرہ روشن ہوا۔

نو مئی اور لانگ مارچ کے واقعات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید خود آرمی چیف بننا چاہتے تھے اور چیف کی تقرری روکنے کے لیے لانگ مارچ اور نو مئی جیسے واقعات پیش آئے۔ ان کے مطابق امکانات موجود ہیں کہ فیض حمید ان واقعات میں ملوث ہوں، اور اگر ایسا ثابت ہوا تو معاملہ ملٹری کورٹ میں جا سکتا ہے۔

رانا ثنا اللہ نے سما نیوز میں ابصار عالم کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ اور نو مئی کے واقعات بانی پی ٹی آئی کی قیادت میں ہوئے، اگر وہ ملوث نہیں تو پھر اور کون ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نو مئی کے کیس میں عمران خان کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل بھی ممکن ہے، جبکہ اس کیس میں کئی کرداروں کا احتساب ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فیض حمید سے ملک میں افراتفری پھیلانے کے حوالے سے تفتیش جاری ہے اور اگر وہ ملوث پائے گئے تو ان کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہوگا۔ ان کے مطابق پختہ رائے ہے کہ نومبر 2022 کے لانگ مارچ اور نو مئی کے واقعات میں فیض حمید کا مؤثر کردار تھا اور وہ بعض معاملات میں مداخلت کرتے رہے۔ اگر ان کی شمولیت ثابت ہوئی تو دائرہ کار بانی پی ٹی آئی سے آگے دیگر افراد تک بھی بڑھ سکتا ہے۔

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ فواد چوہدری، محمود مولوی اور عمران اسماعیل نے اسپیکر آفس میں ملاقات کے دوران مذاکرات کی ضرورت پر بات کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپیکر نے بھی بات چیت کی کوشش کی اور وزیراعظم نے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت دی، تاہم پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہیں بانی تحریک انصاف کی جانب سے مذاکرات کی اجازت حاصل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بعض رہنما مذاکرات کے خواہاں ہیں اور شاہ محمود قریشی بھی بات چیت آگے بڑھانا چاہتے ہیں، لیکن جو رہنما مذاکرات کرنا چاہتے ہیں انہیں اجازت نہیں دی جا رہی۔ حکومت کی جانب سے اس عمل میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی۔

جمعیت علمائے اسلام ف سے متعلق سوال پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اپنے فیصلے خود کرتے ہیں اور کسی کانفرنس میں شرکت یا عدم شرکت کا فیصلہ حکومت کے کہنے پر نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق جے یو آئی ف کی قیادت اپنے سیاسی فیصلوں میں مکمل طور پر خودمختار ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا پر تنقید کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سہیل آفریدی آئینی طور پر جن اجلاسوں میں شرکت کے پابند ہیں، وہ ان سے گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا نے مذاکرات کی کوئی بات نہیں کی بلکہ وہ صرف احتجاجی سیاست کر رہے ہیں۔

Rana Sanaullah

long march

Military Court

Faiz Hameed Punishment

Imran Khan PTI

May 9 Incident