اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا مظاہرین پر واٹر کینن کا استعمال، بعض پی ٹی آئی رہنما زخمی

پولیس کے مطابق پی ٹی آئی کارکنوں نے پتھراؤ بھی کیا
اپ ڈیٹ 10 دسمبر 2025 12:32pm

راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر صورتحال رات گئے اس وقت کشیدہ ہوگئی جب پولیس نےدھرنا ختم کرانے کے لیے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی تینوں بہنوں علیمہ خان، نورین خان اور عظمیٰ خان پر واٹر کینن کا استعمال کیا۔ اس دوران متعدد کارکنان کو گرفتار کیا گیا، جبکہ رکن قومی اسمبلی کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔

منگل کو اپنے بھائی سے ملاقات نہ ہونے پر عمران خان کی بہنیں تقریباً 30 پارٹی کارکنوں کے ہمراہ اڈیالہ جیل کے قریب فیکٹری ناکے پر دھرنے پر بیٹھ گئیں۔ دھرنا پانچ گھنٹے سے زائد رات ڈھائی بجے تک جاری رہا، جس کے باعث علاقے میں سیکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی۔

پولیس نے جگہ جگہ دفعہ 144 کے تحت ناکے قائم کیے، جبکہ جیل کے اطراف کی دکانیں، مارکیٹس اور پیٹرول پمپس بند کرادیے گئے۔ ملحقہ تعلیمی ادارے بھی دن بھر نہ کھل سکے۔ پولیس کی بھاری نفری اور واٹر کینن دھرنے کی جگہ تعینات کردی گئی۔

پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر بھی کارکنوں کے ہمراہ وہاں پہنچے اور آگے جانے کی اجازت نہ ملنے پر دھرنے میں شامل ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک مزید انتشار اور کشیدگی کا متحمل نہیں ہوسکتا، اور وہ ہمیشہ سسٹم کے اندر رہ کر تبدیلی چاہتے رہے ہیں۔

پی ٹی آئی نے عمران خان کی جیل سہولیات سے متعلق قائم کمیٹی کی حکومتی پیشکش قبول کرلی

رات گئے پولیس نے دھرنے کو ختم کرانے کے لیے آپریشن شروع کیا۔ واٹر کینن کے استعمال کے بعد مظاہرین کو منتشر کردیا گیا۔ پولیس کے مطابق کارکنوں نے پتھراؤ بھی کیا، جس کے جواب میں متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ آپریشن میں راولپنڈی پولیس کی بھاری نفری نے حصہ لیا۔

اس دوران پولیس نے وہاں موجود کئی گاڑیوں کو قبضے میں لے کر تھانہ روات منتقل کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قبضے میں لی گئی زیادہ تر گاڑیاں خیبر پختونخوا کے مختلف سرکاری محکموں کی ہیں۔

پی ٹی آئی کے وکیل نعیم حیدر پنجوتھہ نے عمران خان کی بہنوں پر واٹر کینن کے استعمال کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی۔

آپریشن کے دوران رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک شدید زخمی ہوگئے اور ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ اسی دوران فرزانہ سعید بھی دھکم پیل میں ایک نالے میں گر گئیں، جس کے نتیجے میں ان کے چہرے اور جسم پر چوٹیں آئیں۔ دیگر شرکا بھی بد نظمی اور بھگدڑ کے باعث متاثر ہوئے۔

تحریک انصاف نے سماجی رابطے کی سائٹ ‘ایکس’ پر جاری بیان میں پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان کے اہلِ خانہ کو ملاقات سے روکا گیا، جس کے باعث یہ دھرنا دیا گیا تھا۔

پی ٹی آئی کے مطابق شدید سردی میں واٹر کینن سے پانی پھینک کر شرکا کو منتشر کیا گیا، حالانکہ احتجاج میں خواتین بھی شامل تھیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ عمران خان کو بطور قیدی اُن کے حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے اور کارکنوں کے آئینی حقوق بھی متاثر ہوئے ہیں۔

دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عمران خان سے ملاقات ممکن نہیں تھی اور یہ بات اُن کی بہنوں کو کئی بار بتائی گئی۔ پولیس کے مطابق مظاہرہ ختم کرانے کی کوشش بھی کی گئی، مگر مظاہرین احتجاج پر بضد تھے۔

تحریک انصاف کی جاری کردہ ایک ویڈیو میں دیکھا گیا کہ واٹر کینن چلتے ہی علیمہ خان شرکا سے کہہ رہی ہیں کہ گھبرائیں نہیں، ’’یہ صرف پانی ہے۔‘‘

عمران خان کی بہنوں نے دھرنا ختم کرنے کے بعد کہا کہ وہ اگلے منگل کو دوبارہ اپنے بھائی سے ملاقات کے لیے آئیں گی۔

علاوہ ازیں، اڈیالہ جیل میں ڈاکٹرز کی ایک ٹیم نے بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کیا۔ پمز اسپتال کے ڈاکٹرز خصوصی طور پر جیل پہنچے اور طبی جائزہ لینے کے بعد رپورٹ مرتب کرکے جیل حکام کے حوالے کرنے کی تیاری شروع کردی۔

اسی دوران پنجاب اسمبلی نے بانی پی ٹی آئی پر پابندی سے متعلق ایک قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کی، جو مسلم لیگ ن کے رکن طاہر پرویز نے پیش کی تھی۔

دھرنا ختم ہونے کے باوجود اڈیالہ جیل کے اطراف میں سیکیورٹی تاحال سخت ہے اور حالات مکمل طور پر معمول پر نہیں آسکے۔

imran khan

Water Canon

Aleema Khan

Noreen Khan

Uzma Khan

Pakistan Tehreek Insaf (PTI)

Adiala Jail Protest

PTI Dharna