امریکا میں بم بنانے کا دعویٰ کرنے والا افغان شہری گرفتار
امریکی ریاست ٹیکساس میں بم بنانے کا دعویٰ کرنے والے افغان شہری کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی کی معاون سیکریٹری ٹریشا میک لافلِن کے مطابق ایک افغان شہری کو حراست میں لیا گیا ہے جس کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق گرفتار شخص کا نام محمد داؤد بتایا گیا ہے۔ یہ بھی آپریشن الائیز ویلکم کے تحت امریکا لایا گیا تھا اور سال 2022 میں اسے گرین کارڈ دیا گیا تھا۔
واشنگٹن فائرنگ میں ملوث افغان شہری سی آئی اے کا سابق ایجنٹ نکلا
سیکریٹری ٹریشا میک لافلِن کے مطابق گرفتار شخص نے ایک ٹک ٹاک ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں اس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایک بم بنا رہا ہے اور وہ فورٹ ورتھ شہر کو نشانہ بنائےگا۔
سیکریٹری ٹریشا میک لافلِن نے ہفتے کے روز اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا کہ محمد داؤد الکو زئی کی گرفتاری منگل کے روز عمل میں آئی۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق محمد داؤد کو ریاستی دہشت گردی کے الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا ہے اور اسے ٹیکساس کے كاؤنٹی ٹیرنٹ کے کریکشنز سینٹر میں رکھا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس فائرنگ: ٹرمپ کا غریب ممالک پر امریکا کے دروازے بند کرنے کا اعلان
محمد داؤد کی گرفتاری ایک ایسے وقت ہوئی جب چند روز قبل واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب 29 سالہ افغان حملہ آور رحمان اللہ لکانوال پر نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں کو گولی مارنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون اہلکار سارہ بیکاسٹروم، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں تھیں جبکہ دوسرا اہلکار زخمی بتایا گیا تھا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں واقعات کے بعد سکیورٹی ادارے مہاجرین خاص طور پر افغان شہریوں کی اسکریننگ اور آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی مزید سخت کر رہے ہیں۔















